خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 22

خطبات محمود ۲۲ L جلد سوفت نکاح میں کیا امور مد نظر رکھے جائیں (فرموده ۸ - اگست ۱۹۱۷ء) اگست ۱۹۱۷ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ماسٹر شیر عالم صاحب ٹیچر مڈل سکول کنجاہ ساکن گولیکے کا نکاح حمیدہ بیگم ہمشیرہ بابو محمد حسین صاحب اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر ساکن کالا خطائی سے پانچ سو رو پیر مہر پر پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- نکاح ایک ایسی لازمی اور ضروری چیز ہے کہ وحشی سے وحشی اقوام بھی ایسی نہیں ہیں جن میں نکاح نہیں۔یہ ان سب سے ضروری تقاضوں میں سے ہے جن کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں رکھے گئے ہیں ان تقاضوں کے لئے کسی حکم کی ضرورت نہیں۔لیکن اگر کوئی حکم دیتا ہے سوائے ایسے اشخاص کے جو کسی وجہ سے ان کو پورا نہ کرتے ہوں یا نہ کرنا چاہتے ہوں تو وہ پاگل ہے مثلاً کوئی شخص کھانا کھاتا ہو اور دوسرا اسے حکم دے کہ تم کھانا کھاؤ تو وہ فورا کہے گا کہ تم پاگل ہو دیکھ نہیں رہے کہ میں کھانا کھا تو رہا ہوں۔اسی طرح نکاح بھی ایک ایسا تقاضا ہے جو ہر انسان کے دل میں موجود ہے سوائے ایسے اشخاص کے جو مایوس ہو گئے ہوں یا ایسا ہو کہ وہ اس بات پر مجبور ہو گئے ہوں کہ نکاح نہ کریں ایسے شخصوں کو متوجہ کرنا ضروری ہو گا۔لیکن اگر ایسے خیالات کا کوئی شخص نہیں ہے تو پھر اس کو نکاح کے لئے کہنا ایسا ہی ہے جیسا کھانا کھانے والے کو کہنا کہ تم کھانا کھاؤ کیونکہ یہ ایسا تقاضا ہے جو خود بخود وش کر کے اٹھتا ہے۔