خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 348

خطبات محمود ۳۴۸ جلد موم سارا کام ہم نے خود کیا فَا تَخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّی پس اے ابراہیم سے تعلق رکھنے والو! اس چیز کو اپنا مقام بناؤ جس کو ابراھیم نے بنایا تھا۔وہ مقام کیا ہے؟ اس کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں کھولا ہے رَبَّنَا اتى اسكنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ إِلَى KNOWLEمِ : رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلُ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ وَارزُقُهُم منَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔١٢ حضرت ابراهیم علیہ السلام دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں اے میرے رب ! میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی۔اے میرے رب! اس لئے کہ تاوہ اس وادی میں رہتے ہوئے دنیا کے تمام جھگڑوں اور دنیا کے کمانے کے جھمیلوں سے آزاد رہیں۔اے خدا تو ان کے دلوں کو ایسا بنا کہ یہ تیری عبادت کرنے والے اور تیرے نام کو دنیا میں بلند کرنے والے ہوں۔مگر اے خدا یہ بھیک کا ٹھیکرا لے کر دوسروں کے پاس نہ جائیں بلکہ تیری طرف سے عزت والا رزق انہیں ملے تا ان کے دلوں میں تشکر کا جذبہ پیدا ہو اور یہ کہیں کہ ہم تو دنیا کی طرف نہیں گئے تھے مگر خداتعالی دنیا کو ہماری طرف کھینچ لایا۔یہ وہ ابراہیمی مقام ہے جسے خدا تعالٰی نے ہمارے سامنے رکھا۔یہاں گو ظاہری طور پر دادی غیر ذی زرع نہیں لیکن روحانی طور پر اب بھی موجود ہے۔زرع والی دادی کون سی ہوتی ہے ؟ وہی جہاں لوگ ملازمتیں کرتے اور دنیا کمانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔مگر جب انسان ان کاموں کو چھوڑ دیتا ہے جن سے دنیا کمائی جائے تو وادی غیر زرع میں چلا جاتا ہے پس ابراہیمی مقام جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کیا گیا اور آپ کی اولاد سے جس مقام پر کھڑے رہنے کی امید کی گئی یہ ہے کہ وہ دنیا کمانے کے خیالات سے علیحدہ ہو کر صرف دین کے پھیلانے کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں۔تب خدا تعالی کا یہ وعدہ پورا ہوگا کہ وہ خود لوگوں کو ان کی طرف کھینچ کر لائے گا اور آپ ان کے لئے رزق کا سامان مہیا فرمائے -B نا میرے اس بیان سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں کہ جو سلسلہ کی ضرورتوں کے لئے نوکری کریں لیکن ان کو اپنے اخلاص سے ثابت کرنا چاہئے کہ وہ دنیا کو نفس کی خاطر نہیں بلکہ خدا تعالی کی خاطر قبول کر رہے ہیں۔یعنی انہیں ہر وقت پا برکاب رہنا چاہئے کہ جب ان کی ضرورت دین کو ہو سب کچھ چھوڑ کر دین کی خدمت کے لئے آجائیں۔نادان کہتے ہیں کہ انگریز کی نوکری کرنے سے روٹی ملتی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی