خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 296

خطبات محمود hbd جلد سوم ہونے کے لحاظ سے وہ مالک ہیں۔اسی طرح روحانیت کا سلسلہ ہے۔بادشاہی کے لحاظ سے تو تمام روحانی اموال اس زمانہ کے نبی کی ملکیت ہوتے ہیں مگر آئندہ زمانوں میں حالات کے مطابق خدا تعالی جس حصہ کا تصرف کسی کے حوالہ کرتا ہے وہ اس کی ملکیت ہو جاتا ہے۔مثلاً کسی کو قرآن کریم کی کسی آیت کی کوئی خاص تغییر سمجھادی۔کسی کو کسی حدیث کے نئے معنے بتا دیئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ معنے رسول کریم ﷺ پر بھی کھلے تھے گو سب حقائق و معارف کے مالک آپ ہی ہیں اور آپ کے فیض سے ہی دوسروں کو یہ نعمت حاصل ہوتی ہے۔اللہ تعالی کی طرف سے جو نشان آتے ہیں وہ مختلف اقسام میں منقسم ہوتے ہیں اصل تو وہی ہوتے ہیں جو انبیاء سے تعلق رکھتے ہیں لیکن آگے ان کے ماننے والے، ان کی اولادیں، رشتہ دار اور بیوی بچے سب نشان ہوتے ہیں جو بادشاہت کے لحاظ سے تو اس نبی کی ملکیت ہوتے ہیں جس کی طرف وہ شخص منسوب ہوتا ہے لیکن تصرف کے لحاظ سے اس فرد کی طرف منسوب ہوں گے جسے دیئے جائیں گے۔غرض جس طرح دنیا کا ہر ایک ذرہ نشان ہوتا ہے اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور آتے ہیں ان سے تعلق رکھنے والا ہر فرد بھی ایک نشان ہوتا ہے اور میں تو یہ یقین رکھتا ہوں کہ کوئی کمزور سے کمزور احمدی بلکہ منافق احمدی اور اس سے بھی بڑھ کر مرتد احمدی بھی ایسا نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نشان نہ ہو کیونکہ جو چیز آگ سے ایک دفعہ چھو جاتی ہے وہ خواہ بعد میں علیحدہ ہو جائے تو بھی ایک عرصہ تک اس کا اثر ضرور اس میں رہتا ہے۔اسی رنگ میں مجھے جماعت احمدیہ کے نکاح بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشان نظر آتے ہیں۔لوگوں نے ایک مثال بنائی ہے جو اگرچہ ہے تو تحقیر کے لئے لیکن نبی کے زمانہ میں وہ ایک نشان بن جاتی ہے کہتے ہیں کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا " خونی رشتوں کے تعلقات ایک عظیم الشان چیز ہیں کہ انسان اس کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے مگر انبیاء کے زمانہ میں آکر ایسی روح پیدا ہوتی ہے کہ قوم، ملک، اخلاق، تمدن و تہذیب، میل ملاقات، رشتہ داریاں، زبان و غیرہ تمام حد بندیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور کہیں کے لوگ کہیں جاملتے ہیں۔ان کو اس طرح ملانے والی ظاہری چیز کوئی نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ وہ کہہ چکے ہوتے ہیں۔رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِ يَا يُنَادِى لِلْإِيمَانِ أَنْ امِنُوا بِرَتِكُمْ فَا مَنَا رَبَّنَا