خطبات محمود (جلد 3) — Page 284
۲۸۴ ZY خطبات محمود انسانی احتیاج خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتی ہے (فرموده ۱۳- اپریل ۱۹۳۰ء) -۱ اپریل ۱۹۳۰ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محترم محمد فقیر اللہ خان صاحب انسپکٹر مدارس بدایوں کا نکاح ہمراہ مسماۃ مبارکہ بیگم بنت ڈاکٹر ظفر حسن صاحب ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسان اپنی ضرورتوں اور حاجتوں سے چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے کہ گویا اس کا ایک ایک لمحہ اور اس کی زندگی کی ایک ایک ساعت اسے اپنے حقیقی مالک اور خالق کی طرف توجہ دلا رہی ہے مگر باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ انسان کے لئے خدا تعالی کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورتیں پیش آتی ہیں اگر کوئی ہستی اللہ تعالی سے بغاوت کرتی ہے تو وہ انسان ہی ہے۔سوائے انسان کے کوئی ہستی ایسی نہیں جو انا اللہ کا دعویٰ کرنے والی ہو یا لا الہ غیرٹی کی مدعی ہو۔انسان ہی ایک ایسی ہستی ہے جو بسا اوقات اپنی خدائی کا دعوی کر بیٹھتی ہے اور بعض اوقات اپنی خدائی کا تو اعلان نہیں کرتی لیکن ساری دنیا کو خدائی طاقتوں میں شریک کر کے صرف اس ہستی کو نکال دیتی ہے جو خدائی کی اصل مستحق ہے اور خدا کے سوا باقی چیزوں میں خدا کی طاقتیں تسلیم کرلیتی ہے۔گویا اسے کسی نہ کسی کو خدا تسلیم کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ جو خدا کا انکار کرتا ہے وہ اس کی طاقتیں ساری دنیا میں بانٹ دیتا ہے۔ایسا انسان یہ تو تسلیم کرتا ہے کہ بغیر مرد کے عورت کا اور بغیر عورت کے مرد کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔اسی طرح وہ یہ بھی مانتا ہے