خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 285

خطبات محمود ۲۸۵ کہ بغیر کھانے پینے کے بغیر ہوا کے بغیر پانی کے بغیر ستاروں کے، بغیر زمین کے، بغیر سمندر کے، بغیر پہاڑوں کے بغیر دریاؤں کے دنیا قائم نہیں رہ سکتی۔لیکن صرف وہی ہستی جس کے بغیر دنیا قائم نہیں رہ سکتی اس کے متعلق کہہ دیتا ہے کہ وہ نہیں ہے۔وہ خدا کو تو تسلیم کرتا ہے اور خدائی قائم کرتا ہے لیکن در حقیقت اس کا محل غیر قرار دیتا ہے۔خدا کے کیا معنی ہیں۔یہی کہ وہ ہستی جس کے بغیر دنیا قائم نہ رہ سکے۔ایسی طاقتوں کو تو ہر ایک انسان تسلیم کرتا ہے۔مگر ایک خدا کے ماننے اور نہ ماننے والے میں فرق یہ ہے کہ خدا کا منکر اصل شے کا انکار کر دیتا ہے اور دوسری چیزوں کی طرف یہ بات منسوب کر دیتا ہے وہ کہتا ہے ان چیزوں کے بغیر گزارہ نہیں۔مگر یہ نہیں مانتا کہ ان کا آگے کسی اور چیز کے بغیر گزارہ نہیں۔لیکن اگر غور کر کے دیکھا جائے تو ہر چیز دلالت کرتی ہے کہ وہ کسی اور کی محتاج ہے۔اور وہ اور کی۔یہاں تک کہ احتیاج کا سلسلہ اتنا کیا چلا جاتا ہے کہ وہ چیز نظروں سے پوشیدہ ہو جاتی ہے مگر احتیاج قائم رہتی ہے۔پس جب ہر چیز میں احتیاج نظر آتی ہے تو یہ کہنا کہ اس کے پیچھے کوئی ہستی نہیں جو اسے قائم کئے ہوئے ہے غلطی ہے۔نکاح بھی ان احتیاجوں میں سے ایک احتیاج ہے جس کے بغیر انسان کا گزارہ نہیں۔بیسیوں مردوں کو ہم یہ کہتے سنتے ہیں کہ ہمیں عورت کی ضرورت نہیں اور بیسیوں عورتیں کہہ دیا کرتی ہیں کہ ہمیں مردوں کی پرواہ نہیں لیکن یہ غلط بات ہے۔مرد جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے عورت کا محتاج چلا آتا ہے اب بھی محتاج ہے اور آئندہ بھی محتاج رہے گا۔اسی طرح عورت جب سے چلی آتی ہے مرد کی محتاج رہی ہے اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔جو مرد یہ کہتا ہے کہ اسے عورت کی پرواہ نہیں یا جو عورت یہ کہتی ہے کہ اسے مرد کی پرواہ نہیں وہ غلط کہتے ہیں جو دھوکا، خود پسندی اور تکبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔جب خالق نے مرد کے لئے عورت کی پرواہ اور عورت کے لئے مرد کی پرواہ رکھی ہے جب ہر ایک چیز کو پیدا کرنے والے نے ایک ہی چیز کو دو الگ الگ ٹکڑوں میں چیر کر رکھ دیا اور وہ دونوں اپنی اپنی جگہ اس لئے چینی اور چلاتی ہیں کہ آپس میں مل جائیں تو پھر کون کہہ سکتا ہے کہ مرد کو عورت کی یا عورت کو مرد کی پرواہ نہیں۔مرد و عورت کی مثال لو ہے اور مقناطیس کی ہے وہ جب ایک دوسرے کے سامنے آجائیں تو نہیں کہہ سکتے کہ انہیں ایک دوسرے کی پرواہ نہیں۔وہ خود بخود ایک دوسرے کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔یہی حال مرد و عورت کا ہے اور مرد و عورت کا ہی نہیں بلکہ ان سب چیزوں کا