خطبات محمود (جلد 3) — Page 206
خطبات محمود جلد سوم پر ایسے آثار نہیں دیکھے تھے جو آج ہیں اس کی کیا وجہ ہے۔تب انہوں نے وہ بات بتائی جس کے متعلق انہیں غلط فہمی تھی۔میں نے ان کی غلط فہمی کو دور کر دیا اور اس وقت انہیں ایک بات کہی جسے خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا مگر اس کی خوشی دیکھنا ان کے لئے مقدر نہ تھی۔کوئی نادان اسے شرک کے یا اپنی بڑائی۔مگر میں نے جو کچھ کہا تھا وہ یہ تھا۔میں نے کہا گلہ جانے دو یہ بلاوجہ ہے اور یہ خوشخبری سن لو کہ تمہارے ہاں لڑکا ہو گا جو بہت بااقبال ہو گا۔پہلے ان سے لڑکیاں ہوئی تھیں مگر اسی ماہ میں جس میں یہ گفتگو ہوئی حمل ہوا اور لڑکا پیدا ہو گیا اور جس کا نام خلیل احمد رکھا گیا۔میں نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اور جو خدا تعالٰی نے میری زبان پر جاری کیا تھا وہ بہت زیادہ تھا اس کا اظہار میں نہیں کرنا چاہتا۔البتہ اتنا کہہ دیتا ہوں کہ مجھے بتایا گیا وہ مسیحی نفس ہو گا اور حضرت مسیح سے نہایت گہری مماثلت ہوگی۔میں نہیں جانتا اس کی زندگی کا کیا حال ہو گا۔بشیر اول کے متعلق حضرت مسیح موعود کو بتایا گیا تھا مگر وہ فوت ہو گیا۔اس بچے کی فطرت کے متعلق مجھے علم دیا گیا ہے۔اگر ہماری کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی روک نہ بن گئی تو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے وہ مسیحی نفس ہو گا۔غرض میں کسی دنیوی خواہش اور لذت کے لئے اس کام پر آمادہ نہیں ہوا۔میرا دل ڈرتا ہے کہ وہ جو پہلے ہی غموں اور فکروں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ایک اور فکر نہ سیڑ لے۔مگر خدا تعالٰی سے دعائیں کی ہیں اور میں محض اس نیت سے آمادہ ہوا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ کا ایک جزو جو بہت پیچھے ہٹا ہوا ہے اس ذریعہ سے اس کی ترقی کا سامان ہو۔ورنہ میں جس قدر اپنے نفس کو ٹولتا ہوں اس کے سوا کوئی خواہش نہیں پاتا۔اور کوئی ظاہری وجہ نہیں کہ دنیوی فائدہ ظاہر کرتی ہو۔اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے کہ محض ایک اور صرف ایک غرض اس کام بلکہ اس بوجھ کو اٹھانے کی محرک ہے اور وہ صرف جماعت کی ہمدردی اور سلسلہ کا مفاد ہے۔میں نے بار بار اپنے دل کو ٹولا ہے اور اس کے چاروں گوشوں کو دیکھا ہے اور بہت غور سے دیکھا ہے اور اس کے سوا میں نے اس میں کوئی اور خواہش نہیں دیکھی۔لیکن پھر بھی چونکہ انسان کمزور ہے اس لئے میں دعا کرتا ہوں کہ اگر میرے دل کے کسی گوشہ میں اس کے سوا کوئی اور خواہش ہو تو خدا تعالیٰ اسے بدل دے۔میں نے کم از کم تین سو دفعہ استخارہ اور دعا اس شادی کے متعلق کی ہے لیکن اب میں پھر