خطبات محمود (جلد 3) — Page 205
خطبات محمود ۲۰۵ جلد سوم کرنے والی شادی نہیں دیکھی جیسی میری یہ شادی تھی۔میں شکلوں کا پرستار نہیں ہوں۔مرحومہ کی شکل جسمانی لحاظ سے کوئی اچھی شکل نہ تھی۔دوسری بیویوں کی شکل ان سے بہت اچھی تھی لیکن ان کے اندر ایک ایسا ایمان تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک ایسا یقین تھا اسلام کی صداقت پر جو ایمان اور یقین بہت کم عورتوں میں پایا جاتا ہے ان کے اندر ایک یقین اور وثوق تھا تمام سلسلہ کے کاموں کے متعلق۔پھر میاں کے عیوب اور کمزوریاں سب سے زیادہ بیوی پر ظاہر ہوتی ہیں مگر باوجود ان کمزوریوں کے جو مجھ میں پائی جاتی ہیں اور باوجود ان غفلتوں کے جو مجھ سے ظاہر ہوتی ہیں میں نے ہمیشہ ان کے ایمان کو خلافت کے متعلق ایسا مضبوط پایا کہ بہت کم مردوں میں ایسا ہوتا ہے۔ان کی دین سے محبت، ان کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت، ان کی وہ حالت ایمان جو دین کے دوسرے شعبوں کے ساتھ تھی میرے حساس قلب کو متاثر کئے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔اور مجھے فخر ہے کہ ان کی شادی مجھ سے ایسے زمانہ میں ہوئی جبکہ وہ چھوٹی عمر کی تھیں اور مجھے تعلیم دینے اور تربیت کرنے کا موقع مل گیا اور بجا نخر ہے۔مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر قبولیت کا مادہ نہ ہو تو کوئی انسان ترقی نہیں کر سکتا۔خواہ ان کی کوئی حالت ہوتی کتنے غصہ اور جوش میں ہو تیں دینی ذکر کے بعد میں نے دیکھا ان کی طبیعت معادب جاتی۔عورتوں کو تو عام طور پر دیکھا ہے اور بعض مردوں کو بھی کہ جب وہ غصہ کی حالت میں ہوں تو فوراً غصہ کو روک نہیں سکتے۔آہستہ آہستہ ان کی طبیعت بحال ہوگی لیکن ان کو میں نے دیکھا۔اگر ان کی غلطی ہوتی اور بتایا جاتا کہ دین میں یوں ہے تو فورا ان کی تسلی ہو جاتی اور اس طرح ان کی طبیعت ساکن ہو جاتی جس طرح پہاڑ سے ٹکرا کر کوئی چیز ٹھہر جاتی ہے۔میں عموماً بیمار رہتا ہوں اور حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ بیمار میں غصہ زیادہ ہوتا ہے۔میں بلا وجہ تو کسی پر غصہ نہیں ہو تا لیکن اگر معقول وجہ ہو تو غصہ کا اظہار کر دیا کرتا ہوں۔اس وجہ سے بارہا ایسے مواقع پیش آئے کہ میں ان سے ناراض ہوا مگر سوائے ایک دفعہ کے ان کے چہرہ پر کبھی بل نہ دیکھا خواہ وہ کتنے ہی رنج اور صدمہ کی حالت میں ہوں جب میری شکل دیکھتیں تو اپنے چہرہ کو خوش بنالیتیں تاکہ مجھ پر جسے اور بہت سے فکر دامنگیر رہتے ہیں ان کا غمگیں چہرہ دیکھ کر اور اثر نہ ہو۔مذکورہ بالا موقع پر ایک ایسی ہی وجہ پر جو معقول وجہ تھی ان کو غلط فہمی تھی ناراض ہو ئیں۔اور اس کا پتہ بھی مجھے اس طرح لگا کہ میں نے ان کے چہرہ پر ملال کے آثار دیکھے۔میں نے پوچھا آج تک میں نے تمہارے چہرے