خطبات محمود (جلد 3) — Page 167
خطبات محمود 142 جلد سوم ساری اولاد اسلام کے کام آئے۔گو میں عبد السلام میں یہ جوش دیکھتا ہوں مگر میں کہتا ہوں اگر آپ کے نزدیک میاں عبد السلام میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں تو آپ ان سے میری لڑکی کا نکاح پڑھ دیں ورنہ میں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ انسان کو زیادہ پسند کروں گا جس میں یہ باتیں پائی جاتی ہوں۔یہ وہ روح ہے جو جماعت میں پیدا ہونی چاہئے اسلام کے لئے اس وقت ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنی جان، مال اور جائداد سب کچھ خرچ کریں اور بغیر کسی شرط کے اسلام کے رستہ میں اپنی ہر ایک چیز خرچ کریں۔اگر جماعت میں یہ بات پیدا ہو جائے اور ہمارے تعلقات میں اس بات کو مد نظر رکھا جائے تو ایسی نسلیں پیدا ہوں جو اسلام کی بڑی خدمت کر سکتی ہیں۔ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے دل میں یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اسلام کی خدمت میں لگائے اور اس وقت جب کہ دین کی حفاظت کا کوئی سامان موجود نہیں اور دین بے کسی کی حالت میں ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔شد دین احمد بیچ خویش دیار نیست ہر کے در کار خود بادین احمد کار نیست له اس وقت اسلام دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔جماعت کا فرض ہے کہ اسلام کی خدمت کرے اور اپنی اولاد میں خدمت دین کا جوش اور ولولہ پیدا کرے اور پھر وہ نسلیں آئندہ نسلوں میں یہی بات پیدا کریں اور تہیہ کرلیں کہ ہم نے شیطان کا قلع قمع کرنا ہے۔میں نکاح کا اعلان کرتے ہوئے یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں بالعموم جس قدر لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان پر حضرت خلیفہ اول کا احسان ہے۔اگر کوئی شخص ایک دو روپیہ دے تو اس کے سامنے نگاہ نیچی رہتی ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو انہوں نے علم سکھایا ہے اس لئے ان کا ہم سب پر احسان ہے۔اگر وہ اس موقع پر ہوتے تو ہمیں خیال کرنا چاہئے کہ وہ کیا دعائیں کرتے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم خلیفہ اول کے احسان کے تعلق کو محسوس کر کے دعا کریں کہ اللہ تعالٰی عبد السلام کو اور اس کے بھائیوں کو ایسی پاک زندگی عطا کرے جو وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندوں کی ہونی چاہئے اور جس کو اس کے بندے دین میں لگا ئیں اور جیسی زندگی سے اس کا منشاء ہے کہ اپنا کام لے۔ان کو لمبی زندگی دے اور اس تعلق کو میاں بیوی کے لئے مبارک کرے اور مبارک اولاد پیدا کرے۔آمین۔اس کے بعد میں چودھری ابوالہاشم خاں صاحب ایم۔اے کی لڑکی محمودہ کا نکاح میاں عبد السلام سے ایک ہزار روپیہ مہر پر اعلان کرتا ہوں۔چودھری صاحب نے اپنے خط کے ذریعہ