خطبات محمود (جلد 3) — Page 83
خطبات محمود ۸۳ جلد سوم لئے پہلے انکار ہوتا ہے لیکن آخر لوگ مان جاتے ہیں مثلاً سرسید احمد خان نے کہا کہ انگریزی پڑھنی چاہئے۔ ابتداء میں بے شک بعض لوگوں نے مخالفت کی لیکن یہ وہ بات تھی جس کی تائید میں زمانہ کے حالات تھے ۔ جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ہمارے ہم عصر انگریزی پڑھ کر فائدہ اٹھا نے ہمارے ہم عصر - رہے ہیں اور ملازمت بھی بغیر انگریزی پڑھے کے نہیں مل سکتی تو آخر سرسید کی بات مان لی۔ اب یہ کامیابی جو ہے معجزہ نہیں نشان نہیں۔ یہ کامیابی پانے والا زیادہ سے زیادہ ایسا رانا کہلا سکتا ہے جس نے دنیا کے خیالات کو پہلے پڑھ لیا۔ خدا کی طرف سے یہ بات معجزہ کہلائے گی جو لوگوں کے خیالات اور رسم و عادات کے خلاف ہو اور جسے پانے جسے پانے کے لئے لوگ تیار نہ ار نہ ہوں اور نہ زمانے کے حالات اس کے مساعد ہوں مثلاً حضرت صاحب ( مسیح موعود علیہ السلام) نے فرمایا کہ رسول کریم کے بعد وحی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ وہ بات ہے جس کے مسلمان بھی قائل نہ تھے اور دوسرے ندا مذاہب والے تو اس سے پہلے وحی کے وحی کا سلسلہ بند کر چکے تھے ۔ پھر یورپ کا یہ زور کہ انہوں نے ہائی کرلینر کے ماتحت تورات و انجیل کے الہام کی بھی دھجیاں اڑا دی تھیں اور خواب و رویا کو ایسا بے اعتبار ثابت کیا کہ بعض لوگوں کو خواب کرا کے رکھا دیا ۔ باوجود ان خیالات کے حضرت صاحب نے ثابت کر دیا کہ الہام و وحی کا سلسلہ جاری ہے اور وہ دماغی بناوٹ سے بالا تر ہے۔ غرض مامورین الہی دنیا جدھر چلے اس کے مقابل چلتے ہیں۔ وفات مسیح منوانا حضرت صاحب کا بڑا کام نہیں بلکہ مسیحیت منوانا مشکل تھا جو آپ نے کئی لاکھ کی جماعت سے منوالی۔ بعض دفعہ لوگ کہتے کہ مرزا صاحب نے کونسا بڑا کام کیا۔ وفات مسیح تو سرسید بھی مانتا تھا اور اس کے ہم خیالوں کی بہت سی تعداد مانتی ہے ۔ ہم کہتے ہیں وفات مسیح تو آپ کی راہ میں ا درد درمیانی روک تھی مسیحیت منوانا بڑا کام تھا۔ اور آنحضرت کے بعد نبوت کا اجراء جو آ۔ آپ نے کیا۔ الغرض خدا تعالیٰ کی رحمتیں بہت وسیع ہوتی ہیں اس کے انعامات کی کوئی حد نہیں اس لئے تمام کاموں میں انسانوں کی نظر خدا پر ہی پڑنی چاہئے کیونکہ سب چیزیں زوال پذیر ہیں مگر خدا کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ بعض لوگوں کو اپنے علم پر غرور ہوتا ہے بعض کو دولت پر مگر کیا معلوم که شام شام کو ایک شخص دولت مند ہوئے اور صبح غریب ہو ۔ ابھی ایک عالم فاضل محققانہ تقریر کر رہا ہو اور دوسرے روز پاگل ہو جائے۔ ۱۹۱۴ء میں میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ ایک بڑا شخص ہے اس کی شکل مولوی سید محمد