خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 679 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 679

خطبات محمود شریعت نے اسے حق دیا ہے۔کے پس والد کی عدم موجودگی میں لڑکی کا بھائی اس کا نکاح کرنے کا حق رکھتا ہے۔قیصرہ خانم کا بڑا بھائی تو دور تھا لیفٹینٹ شہزاد نے ہی نکاح کی اجازت دی ہے لیکن وہ خود اس موقع پر یہاں نہیں آسکے انہوں نے اپنے چا میجر بشیر احمد صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ولی اور سرپرست کے طور پر اپنی بھتیجی اور میری بہن قیصرہ خانم کے نکاح کی منظوری دے دیں۔ہمارا خاندانی طریق یہی ہے کہ لڑکا ہو یا لڑکی اس کا مہر ایک ہزار روپیہ رکھا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے اپنی زندگی میں میرا جو مہر رکھا وہی میں نے بعد میں بھی رکھا ہے۔بعض رشتے نوابوں کے خاندان میں بھی ہوئے لیکن میں نے اسی قدر مهر تجویز کیا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ اپنی بیٹیوں کا مر زیادہ رکھا ہے اور ہماری بیٹیوں کا کم۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری بڑی ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا مر۷ ۵ ہزار روپیہ رکھا گیا تھا۔لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ مالیر کوٹلہ میں یہ طریق رائج تھا کہ نواب خاندان کی عورتوں کو ورثہ نہیں ملتا تھا۔چنانچہ اس موقع پر بعض نے کہا کہ مہر تو اس لئے کم رکھا جاتا ہے کہ عورت خاوند کی جائداد کی وارث ہوتی ہے لیکن ریاست مالیر کوٹلہ کے قانون کے مطابق عورت وارث نہیں ہو سکتی اس لئے مہر زیادہ رکھا جانا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اچھا اگر یہ صورت ہے تو ورثہ میں لانے والی جائداد کا حساب لگا لیا جائے اور اسی قدر مہر رکھ لیا جائے۔پس در حقیقت ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا مر بھی اس لئے زیادہ رکھا گیا تھا کہ مالیر کو ٹلہ کی ریاست کے دستور کے ماتحت وہ اپنے خاوند کے ورثہ کی حقدار نہیں ہو سکتی تھیں۔لیکن جہاں عورت کو خاوند کی جائداد سے ورثہ مل سکتا ہے وہاں ہم نے ایک ہزار روپیہ سے زیادہ مہر کبھی نہیں رکھا۔وہ لوگ جن کی دنیوی حیثیت ہم سے بہت ہی کم ہے وہ اپنی لڑکیوں کا مر بعض دفعہ آٹھ آٹھ دس دس ہزار روپیہ رکھ لیتے ہیں مگر چونکہ لڑکا اسے منظور کر لیتا ہے اس لئے ہمیں بھی اسی مر پر نکاح کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔در حقیقت اسلام نے عورت کو اس کے خاوند کی جائداد کا وارث بنایا ہے اور جب یہ صورت ہے تو زیادہ مہر کی کیا ضرورت ہو گی اگر خاوند کی اولاد ہوگی تو بیوی کو اس کی جائداد کا آٹھواں حصہ مل جائے گا اور اگر اولاد نہیں ہوگی تو وہ اس کی جائداد کے چوتھے حصے کی وارث ہوگی۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے خاندان میں ایک ہزار مہر کا رواج ہے۔صرف ہمشیرہ