خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 674 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 674

خطبات محمود ۶۷۴ جلد موم اب میں ایک ایک کر کے ان نکاحوں کا اعلان کرتا ہوں امتہ المتین مریم صدیقہ سے میری لڑکی ہے ان کا نکاح ایک ہزار روپیہ مہر پر سید محمود احمد صاحب ابن میر محمد اسحق صاحب مرحوم سے قرار پایا ہے۔محمود احمد اس وقت لندن میں بی اے میں پڑھ رہے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے خیریت رکھی تو ارادہ ہے کہ اگلے سال مئی میں وہ واپس آجائیں۔میں اپنے تینوں بچوں کو محمود احمد کو جو داماد ہے اور واؤر احمد کو جو داماد ہے اور ظاہر احمد کو جو ام طاہر مرحومہ کا لڑکا ہے وہاں چھوڑ آیا ہوں تاکہ وہ تعلیم پائیں اور آئندہ سلسلہ کی خدمت کریں۔ان کو تاکید ہے کہ انگریزی میں لیاقت حاصل کریں ممکن ہے ان میں سے کوئی ایم اے کر سکے تو پھر وہ یہاں کالج میں پروفیسر ہو سکتا ہے نہیں تو اگر انگریزی تعلیم اچھی طرح حاصل ہو جائے تو چونکہ یہ تینوں مولوی فاضل ہیں اور عربی تعلیم بھی ان کی نہایت اعلیٰ ہے اگر انگریزی تعلیم بھی اعلیٰ ہو گئی تو قرآن شریف کا ترجمہ اور حضرت صاحب کی کتابوں کا ترجمہ انگریزی میں کر کے وہ سلسلہ کی اشاعت میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ریویو آف ریلیجنز بھی اس بات کا محتاج ہے کہ اس کا کوئی اچھا اور لائق ایڈیٹر ہو۔اس غرض کے لئے میں اپنے بچوں کو وہاں چھوڑ آیا ہوں کو اس بیماری اور کمزوری میں اتنے اخراجات برداشت کرنا کہ تین بیٹے وہاں پڑھیں (رد داماد اور ایک بیٹا) مشکل ہے مگر میں نے سمجھا کہ جماعت کی مشکل میری مشکل سے بڑی ہے۔بہر حال ہمیں آئندہ کے لئے کام کرنے والے تیار کرنے چاہئیں۔ریویو آف ریلیجز میں پہلے مولوی محمد علی صاحب آئے، ہم کتنا بھی ان سے اختلاف رکھتے ہوں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اپنے وقت میں نوہ قربانی کر کے آئے تھے۔اس زمانہ میں ایم اے کی بڑی قدر ہوتی تھی وہ اسلامیہ کالج میں پروفیسر بھی تھے ، وکیل بھی تھے اور ایم اے بھی تھے۔جو بھی تنخواہ انہوں نے اس وقت لی وہ اس سے کم تھی جو وہ کما سکتے تھے یعنی سو روپے ان کو ملتے تھے اور انگریزی اچھی لکھتے تھے۔کچھ مدت تک انہوں نے ریویو کو چلایا پھر جب وہ لاہور چلے گئے تو مولوی شیر علی صاحب نے یہ خدمت سر انجام دی پھر جب یہ ریویو ادھر ربوہ میں آگیا تو صوفی مطیع الرحمن صاحب نے اس کو سنبھالا جو امریکہ میں لمبے عرصے تک رہے تھے مگر اچانک ان کی وفات ہو گئی۔اس سے پھر وہ جگہ خالی ہو گئی ہے۔اب چوہدری مظفر الدین صاحب وہ کام کر رہے ہیں۔مگر بہر حال ان کی تعلیم ایسی اعلیٰ نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آئندہ ریویو کس پایہ پر چھپتا ہے۔عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ اس کو امریکہ منتقل کر دیا