خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 611

خطبات محمود 411 جلد سوم رسول کریم ال کی وفات کے وقت حضرت حسان نے کہا: نے کہا كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِی تو میری آنکھ کی پتلی تھا فَعَمِی عَلَی النَّاظِرُ پر تیری موت کے ساتھ آج میری آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں منْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَعُتُ تیرے مرنے کے بعد جو چاہے مرے فَعَلَيْكَ كُنتُ احَاذِرُ میں تو تیری موت سے ڈرتا تھا کسی اور کی موت کا مجھ پر اثر کا مجھ پر اثر نہیں ہو سکتا۔ اس شعر کے معنوں کی عظمت کا اس بات سے پتہ لگتا ہے جس کو لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اس شعر کا کہنے والا ایک نابینا شخص تھا اگر ایک بینا شخص یہی شعر کہتا تو وہ صرف ایک شاعرانہ مذاق اور ایک ادبی لطیفہ کہلا سکتا تھا مگر اس شعر کے ایک نابینا شخص کے مونہہ سے نکلنے کی وجہ سے اس کی حقیقت بالکل بدل جاتی ہے۔ یعنی حضرت حسان اس شعر میں یہ دعوی کرتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ زندہ تھے تو باوجود اس کے کہ میری ظاہری آنکھیں نہیں تھیں پھر بھی میں بینا ہی تھا۔ میری جسمانی آنکھیں نہ ہونے کی وجہ ۔ وجہ سے لوگ مجھے اندھا سمجھتے تھے لیکن میں اپنے آپ کو اندھا نہیں سمجھتا تھا کیونکہ رسول ﷺ کے ذریعہ مجھے دنیا نظر آرہی تھی اور اب بھی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میں ویسا ہی ہوں حالانکہ میں میں ویسا نہیں۔ پہلے میں بینا تھا لیکن اب میں اندھا ہو گیا ہوں۔ تو رسول کریم دنیا میں سب سے قیمتی وجود تھے مگر اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت آپ بھی آخر ایک دن دنیا سے جدا ہو گئے ۔ لیکن بہت لوگ ہیں مسلمان کہلانے والے بھی اور بہت لوگ ہیں رسول کریم ﷺ پر اپنے ایمان کا اظہار کرنے والے بھی جن کی عمریں گزر جاتی ہیں بعض دفعہ سو (۱۰۰)، سو (۱۰۰) سال تک ان کی عمریں ہوتی ہیں مگر ان کے اندر یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے ساتھ بہت بڑا حادثہ ان پر گزرا ہے اس لئے کہ رسول کریم کا زمانہ انہوں نے نہیں دیکھا، اس لئے کہ رسول کریم ﷺ کا وجود ان کو اس طرح نظر نہیں آتا جس طرح صحابہ کو نظر آتا تھا، نقصان کے لحاظ سے تو جیسے صحابہ کو نقصان پہنچا ویسا ہی بعد میں آنے والوں کو بھی نقصان پہنچا، مگر صحابہ نے اس کو محسوس کیا کیونکہ رسول کریم ﷺ کے آنے سے جو کام ہوئے ان کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کے نہ آنے کی صورت میں جو خطرہ تھا اس کو بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ مگر بعد کے لوگوں نے چونکہ اس چیز کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اس لئے باوجود اس کے کہ رسول کریم پر وہ ایمان لاتے ہیں اور ان کے اندر اخلاص پایا جاتا ہے پھر بھی رسول کریم اللہ کی وفات ان کو اپنی زندگی کا سانحہ معلوم نہیں ہوتا۔ الا ماشاء اللہ ۔ اللہ تعالی کے بعض بندے ایسے