خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 583

خطبات محمود ۵۸۳ جلد سوم انتظار کیا تو وہ آگئے جب وہ آئے تو انہوں نے اس رنگ میں ان سے بات کی کہ اللہ تعالی کے دین میں جب کوئی داخل ہوتا ہے تو بعض دفعہ اس کے ایمان کی آزمائش بھی ہوتی ہے اگر اللہ تعالٰی آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے ۔ ان کو اس وقت دو خیال تھے کہ شاید ان کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کو یہ رشتہ کرنے میں تامل ہو ایک تو یہ کہ اس سے قبل ان کے خاندان کی کوئی لڑکی کسی غیر سید کے ساتھ نہ بیاہی گئی تھی اور دوسرے یہ کہ مبارک احمد ایک مہلک بیماری میں مبتلاء تھا اور ڈاکٹر صاحب مرحوم خود اس کا علاج کرتے تھے اور گھر میں جاکر ذکر کیا کرتے تھے کہ اس کی حالت نازک ہے اور اس وجہ سے وہ خیال کریں گے کہ یہ شادی نناوے فیصد خطرہ سے پر ہے اور اس سے لڑکی کے ماتھے پر جلد ہی ہیوگی کا ٹیکہ لگنے کا خوف ہے۔ اور ان باتوں کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے گھر والوں کو یہ خیال تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ڈاکٹر صاحب کمزوری دکھائیں اور ان کا ایمان ضائع ہو جائے اس لئے انہوں نے پوچھا کہ اگر اللہ تعالٰی آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے ۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی استقام استقامت عطا کرے گا گا اس پر والدہ مریم بیگم مرحومہ نے ان کو بات سنائی اور بتایا کہ اس طرح میں اوپر گئی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مریم کی شادی مبارک احمد سے کر دیں۔ یہ سن کر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اچھی بات ہے اگر حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کو یہ پسند ہے تو ہمیں اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ جواب سن کر مریم بیگم مرحومہ کی والدہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے رو پڑیں اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ۔ اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا کیا تم کو یہ پسند نہیں۔ انہوں نے کہا مجھے پسند ہے۔ بات یہ ہے کہ جب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکاح کا ارشاد فرمایا تھا میرا دل دھڑک رہا تھا اور میں ڈرتی تھی کہ کہیں آپ کا ایمان ضائع نہ ہو جائے اور اب آپ کا یہ جواب سن کر میں خوشی سے اپنے آنسو روک نہیں سکی چنانچہ یہ شادی ہو گئی اور کچھ دنوں کے بعد وہ لڑکی بیوہ بھی ہو گئی ۔ اللہ تعالیٰ کسی کے اخلاص کو ضائع نہیں کرتا آخر وہی لڑکی پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں آئی اور خلیفہ وقت سے بیاہی گئی اور باوجود شدید بیمار رہنے کے اللہ تعالی نے اسے اس وقت تک مرنے نہیں دیا جب تک کہ اس نے اپنی مثیت کے ماتحت اس پیشگوئی کے میرے وجود پر پورا ہونے کا انکشاف نہ فرمادیا جو اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے حضرت مسیح