خطبات محمود (جلد 3) — Page 584
خطبات محمود ۵۸۴ جلد سو موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی اور اسے ان خواتین مبارکہ میں شامل نہ کر لیا جو ازل سے مصلح موعود سے منسوب ہو کر حضرت مسیح موعود کا جزو کہلانے والی تھیں۔میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالی کی طرف سے اس ایمان کی جزاء تھی جو مریم بیگم مرحومہ کی والدہ نے اس وقت ظاہر کیا تھا۔مریم بیگم کی وفات کے بعد پہلے کچھ دن تو اس قسم کی بات کا احساس ہو ہی نہ سکتا تھا مگر کچھ دنوں کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ گھر اس لحاظ سے ویران ہے کہ اس میں ماں ہے اور نہ باپ۔ایک شادی شدہ انسان کی راتوں پر اس کی زندہ بیویوں کا حق ہوتا ہے اور پہلے میری راتیں جو چار حصوں میں تقسیم ہوتی تھیں اب تین حصوں میں تقسیم ہونے لگیں۔دن کے وقت تو میں کام کی وجہ سے گھر جا سکتا ہی نہیں اور اب رات کو بھی اس گھر میں نہ جا سکتا تھا اور اس طرح مریم بیگم مرحومہ کے بچے نہ دن کو میرے پاس رہ سکتے تھے اور نہ رات کو۔اس احساس کے بعد مجھے خیال ہوا کہ ان بچوں کو کسی دوسری بیوی کے سپرد کر دوں تاجب میں اس کی باری میں اس کے گھر جاؤں تو ان کی نگرانی بھی کر سکوں اور ان کے حالات سے باخبر رہ سکوں۔یہ خیال آنے پر میں نے غور کیا کہ کسی بیوی کے پاس ان کو رکھ سکتا ہوں تو میں نے سمجھا کہ میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ ہی ہیں جو مریم بیگم مرحومہ کے گھر میں جاکر رہ سکتی ہیں اور ان کے بچوں کا محبت کے ساتھ خیال رکھ سکتی ہیں۔مگر ساتھ ہی مجھے یہ بھی خیال آیا کہ وہ حضرت (اماں جان) کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کی خدمت کا ان کو موقع ملتا ہے۔دوسرے میں نے دیکھا کہ ان کے متعلق بھی ڈاکٹروں کی یہی رائے ہے کہ وہ بھی اسی مرض میں مبتلاء ہیں جو ام طاہر مرحومہ کو تھا ایک لڑکی کی پیدائش کے بعد سات سال سے ان کے ہاں اور اولاد نہیں ہوئی اور پھر ان کی طبیعت ایسی ہے کہ میری رضا جوئی کے لئے جب بچے آپس میں لڑ پڑیں تو چاہے ان کی لڑکی کا قصور ہو اور چاہے کسی دوسرے بچے کا وہ اپنی لڑکی کو ہی سزا دیتی ہیں تا دوسرے بچوں کے دل میں یا میرے دل میں احساس پیدا نہ ہو کہ وہ اپنی لڑکی کی طرفداری کرتی ہیں اور بوجہ بنت العم ہونے کے مجھ سے دو ہرا تعلق رکھتی ہیں اور اس لئے دو ہری محبت۔گو میری امتہ الحی مرحومہ کی سی فرمانبرداری کا مقام انہیں حاصل نہیں کہ مرحومہ امتہ الحئی نے دس سالہ مصاحبت میں ایک دفعہ بھی میری بات کو رد نہیں کیا۔میرے واہمہ میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اس سے بڑھ کر فرمانبردار بیوی کوئی اور ہو سکتی ہو (حالانکہ استاد کی بیٹی ہوتے ہوئے اگر