خطبات محمود (جلد 3) — Page 576
چند سوم پڑے تو بے شک اسے دے دو تو اسلام لڑکوں کے متعلق بھی تو یہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر تمہیں ان کے لئے غرباء میں رشتہ ملتا ہے تو بے شک غریب لڑکی کا رشتہ لے لو۔ایک حکم کو ماننا اور دوسرے کا انکار کر دیتا یہ کہاں کا انصاف ہے۔لڑکے والوں کو بھی حکم ہے کہ جہاں خدا نے ان کے لئے رشتہ مقدر کیا ہو قطع نظر اس سے کہ لڑکی امیر ہو یا غریب لے لیں اور لڑکی والوں کو بھی حکم ہے کہ شرافت اور تقوی کو دیکھ کر رشتہ کریں۔اور اگر انہیں کوئی امیر رشتہ نہیں ملتا تو غریب کو ہی دے دیں۔پس میں ان میں بھی دنیا داری دیکھتا ہوں۔وہ شخص جو کہتا ہے کہ جس نے دین کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی ہے میں اسے اپنی لڑکی کیوں دوں اور وہ اسے تحقیر و تذلیل کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جب یہ اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر چکا تو روٹی کہاں سے کھائے گا اس کے اس نقطہ نگاہ کے معنے یہ بنتے ہیں کہ جو شخص خدا کے لئے اپنی زندگی وقف کرتا ہے وہ حقیر ہے مگر جو انگریز کو اپنی زندگی دے دیتا ہے وہ معزز ہے۔جو شخص انگریز کو اپنی زندگی دے دیتا ہے اور صوبیدار یا تحصیلدار یا ای اے سی بن جاتا ہے وہ بڑا معزز ہے مگر وہ جو خدا کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے وہ نعوذ باللہ بڑا ذلیل ہے۔گویا دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے زیادہ معزز کون ہے جو انگریزوں کا غلام بن جائے اور اس سے زیادہ ذلیل کون ہے جو بندوں کی نوکری چھوڑ کر خدا کی نوکری کرنے لگ جائے۔اس کے مقابلہ میں جب ایک واقف زندگی کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ میری شادی فلاں مالدار کے گھر میں ہو جائے یا میری شادی فلاں کھاتے پیتے شخص کی لڑکی سے ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ منہ سے تو کہتا ہے کہ اس نے دنیا کو چھوڑ دیا مگر عملی طور پر وہ دنیا کا ہی پرستار ہے۔اگر واقع میں اس نے دنیا کو چھوڑ دیا ہوتا، اور اگر واقعہ میں وہ اپنے تمام ارادوں اور اپنی تمام نیتوں کو خدا کے تابع کر چکا ہوتا تو اس صورت میں اگر ایک چوڑھی سے بھی اسے شادی کرنی پڑتی تو وہ خوشی سے شادی کے لئے تیار ہو جاتا اور کہتا کہ اگر خدا میرے لئے ایک چوڑھی پسند کرتا ہے تو مجھے وہ چوڑھی منظور ہے۔اللہ تعالٰی میرے لئے ایک چمارن کا فیصلہ کر دیتا ہے تو مجھے اپنے لئے وہ چمارن منظور ہے۔جس چیز کی اس کو ضرورت ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی بیوی جو تعلیم یافتہ ہو اور اس تہذیب و تمدن کی حامل ہو جس تہذیب و تمدن کا وہ خود حامل ہے۔پس اگر لڑکی میں یہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں وہ دین سے واقفیت رکھتی ہے وہ تعلیم یافتہ ہے وہ اسلامی تہذیب