خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 575

خطبات محمود ۵۷۵ جلد سوم اس کے رشتہ دار برا مناتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ واقف کیوں اوپر کی طرف نگاہ رکھتا ہے۔جب کسی نے اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دیا تو اس کے لئے یہ سوال جاتا رہا کہ اس کی شادی کسی امیر کی لڑکی سے ہوتی ہے یا اس کی شادی کسی غریب کی لڑکی سے ہوتی ہے مگر جب وہ چاہتا یہ ہے کہ جس شخص کی آمد مجھ سے زیادہ ہو، جس کی مالی حالت مجھ سے بہتر ہو ، جو شخص دولت اپنے پاس رکھتا ہو اس کی لڑکی سے میں شادی کروں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ گو اس نے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے مگر پو جاوہ دنیا کی ہی کرتا ہے اور وہ بھی اسی مندر میں جاکر اپنا ماتھا ٹیکتا ہے جس میں دوسرا دنیا دار اپنا ماتھا ٹیک رہا ہوتا ہے تبھی تو وہ ایسے گھرانوں میں اپنی شادی کا خواہش مند ہوتا ہے جو مالدار ہوں اور جو دولت و ثروت رکھتے ہوں۔اگر وہ دنیا کو چھوڑ چکا ہے تو کیوں وہ چھوٹی جگہ اپنے لئے پسند نہیں کر لیتا۔اس کے دل میں یہ احساس کہ میری شادی کسی کھاتے پیتے شخص کی لڑکی سے ہو کسی غریب کے ہاں میری شادی نہ ہو بتاتا ہے کہ دنیا کا بت اس نے اپنے دل سے نکالا نہیں صرف اس کی جگہ بدل لی ہے ایک کمرہ سے اس بت کو نکال کر اس نے دوسرے کمرہ میں رکھ لیا ہے ورنہ وہ سجدہ تو اسی بت کو کرتا ہے اور پرستش اس بت کی کر رہا ہے۔اگر دنیا کو وہ چھوڑ چکا ہوتا اگر خدا کے لئے وہ حقیقی معنوں میں اپنی زندگی کو وقف کر چکا ہوتا تو پھر اسے یہ کوئی خیال نہیں آنا چاہئے تھا کہ اس کی شادی کسی امیر کے ہاں ہوتی ہے یا چوہڑوں اور چہاروں کے ہاں ہو جاتی ہے۔اگر اس نے دنیا چھوڑنی ہے تو دنیا چھوڑنے کی علامت بھی تو اس میں نظر آنی چاہئے۔ہماری جماعت کے ایک دوست ہیں ان کی یہ عادت ہے کہ وہ ہمیشہ سلسلہ کے چوٹی کے امیر آدمیوں کے گھروں میں اپنے بیٹوں کے رشتہ کے متعلق درخواست دے دیتے ہیں اور جب وہ انکار کر دیتے ہیں تو پھر شور مچاتے اور مجھے خط پر خط لکھتے ہیں کہ دیکھئے ابھی تک جماعت کی اصلاح نہیں ہوئی آپ اور خطبہ پڑھیں اور جماعت کو توجہ دلائیں کہ رشتہ کے بارہ میں وہ کسی امتیاز کا خیال نہ کریں۔مجھے ہمیشہ ان کے خطوط پر ہنسی آتی ہے اور میں انہیں کہا کرتا ہوں کہ آپ تو کبھی امراء کو درخواست نہیں دیتے آپ تو ہمیشہ اپنے سے ادنیٰ لوگوں کے ہاں اپنے لڑکوں کے متعلق درخواست دیا کرتے ہیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ اس امتیاز کو مٹا دیں تو پھر آپ کیوں اپنے لڑکوں کے رشتہ کے متعلق انہی لوگوں کو درخواست دیتے ہیں جو دنیوی طور پر معزز ہوتے ہیں۔اگر اسلام کا یہ حکم ہے کہ لڑکی کا رشتہ اگر اپنے سے ادنی درجہ والے کو دینا