خطبات محمود (جلد 3) — Page 540
خطبات محمود ۵۴۰ جامد سوم ساتھ ہی لکھا کہ یہ صاحب بہت شریف اور با اخلاق ہیں ان کے دل میں دین کی بڑی محبت ہے، ان کے لئے دعا کی جائے کہ احمدی ہو جائیں کیونکہ اگر یہ احمدی ہو گئے تو اس علاقہ میں تبلیغ احمدیت کا بڑا ذریعہ بن جائیں گے میں نے ان کے سوالات کا جواب بھی لکھا اور دعا بھی کی۔میں نے رویا میں دیکھا کہ باہر صحن میں ایک شخص بیٹھا ہے سیٹھ صاحب کو میں نے دیکھا ہوا نہیں تھا۔جب بعد میں دیکھا تو ان کی شکل اس شخص سے ملتی جلتی تھی جسے میں نے رویا میں دیکھا تھا۔تو میں نے دیکھا ایک صاحب باہر تخت پر بیٹھے ہیں ان کے سر پر چھوٹی سی ٹوپی ہے وہ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان میں شگاف ہوا ہے جس میں سے نور پھینک رہے ہیں اور وہ اس شخص پر گر رہا ہے۔میں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ ان کو اللہ تعالی ہدایت دے گا اور نہ صرف ہدایت دے گا بلکہ سلسلہ کے لئے مفید بنائے گا۔میرا خیال ہے کہ شاید ان کے سوالات کے جواب ابھی میری طرف سے انہیں نہ پہنچے تھے کہ انہوں نے استخارہ کر کے بیعت کرلی۔اس کے بعد احمدیت سے ان کا عشق بڑھتا گیا اور وہ بڑی سے بڑی قربانی اور ہر رنگ کی قربانی کرتے رہے ہیں۔تبلیغ میں اس حد تک انہیں جوش ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم میں والنزعتِ غَرُقًا ه وَالتُنشِطَتِ نَشْطًا ، والشبحتِ سُبْعًا ، فَالشبقتِ سُبقًا 0 فا لمديرتِ امراه سے ارشاد فرمایا گیا ہے یہ مقام ان کو حاصل ہے۔یوں ان کی مذہبی تعلیم کچھ نہیں انگریزی کا چونکہ ان کی قوم میں رواج ہے کہ اس میں خط و کتابت کرتے ہیں اس لئے وہ اس میں لکھ پڑھ لیتے ہیں ورنہ کالج میں تعلیم پاکر اس میں خاص کسب کمال کیا ہو یہ بات نہیں مگر اس جوش میں کہ تبلیغ کریں اردو، انگریزی اور گجراتی میں کتابیں لکھتے رہتے ہیں اور پھر تبلیغی لٹریچر شائع کرانے کی انہیں ایسی دھن ہے کہ ان کی جدوجہد کو دیکھ کر شرم آجاتی ہے کہ قادیان میں اتنا عملہ ہونے کے باوجود اس دھن سے کام نہیں ہو تا جس سے وہ کرتے ہیں۔انہوں نے تبلیغی لٹریچر کی اشاعت کے کئی ڈھنگ نکالے ہوئے ہیں۔کسی غریب اور بے کار آدمی کو پکڑ لیتے ہیں اور تبلیغی لٹریچر دے کر کہتے ہیں جاؤ سٹیشنوں پر جاکر اسے فروخت کرو اور جو آمد ہو وہ تم لے لو۔اس طرح وہ اپنی ایک کتاب کے ۱۵- ۱۶۹۱۵ - ۱۶ ایڈیشن شائع کر چکے ہیں۔غرض وہ اس دھن سے تبلیغ احمدیت کا کام کرتے ہیں کہ اگر چند اور ایسے کام کرنے والے