خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 538

خطبات محمود ۵۳۸ جلد سوم کھڑی کر دیتے ہیں اور جب ایک کو دھکا دیتے ہیں تو سب اینٹیں ٹھک ٹھک کرتے ہوئے گر جاتی ہیں۔ جب کوئی شخص کسی کا حق غصب کر لیتا ہے تو وہ اپنے عمل سے دوسروں کو بھی اس کی تحریک کرتا ہے کہ وہ بھی اس کے حقوق کو غصب کر لیں۔ اس طرح رفتہ رفتہ اس کے ارد گرد ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس میں کسی کا حق مارنا گناہ خیال نہیں کیا جاتا اور اس کا نقصان خود اس کو بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسے دوسروں کے حقوق کے اتلاف کا خیال نہ ہو بلکہ وہ بجائے اس خیال کے کہ میں ایسی بیوی لاؤں جو میری خدمت کرے یہ ارادہ کرے کہ میں علیک بِذَاتِ الدِّینِ کے ارشاد کے مطابق ایسی بیوی لاؤں جو اپنے فرائض اور واجبات کو ادا کرنے والی ہو اور عورت بھی یہ خیال نہ کرے کہ اس کا خاوند ایسا ہو جو صرف اس کی خدمت کرے بلکہ وہ ان فرائض اور واجبات کو ادا کرنے والا ہو جو اللہ تعالٰی کے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ تو چونکہ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے گا اور اسے معلوم ہو گا کہ رشتہ دار کے لئے یا سوسائٹی کے لئے یا مذہب کے لئے کس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اس لئے ہر شخص دوسرے کے لئے قربانی کرنے والا ہو گا ذاتی آرام اور ذاتی نفع کا خیال کسی کے دل میں نہیں آئے گا۔ پس یہ ایک ایسا راحت اور آرام کا ذریعہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو اس سے کام لے کر اپنے ارد گرد جنت بنا سکتے ہیں اور در حقیقت جب رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے تو آپ کا اس طرف اشارہ تھا کہ تم اپنے بچوں کا فکر کر کے جنت حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اپنی ماں اور اپنے ماں باپ کی خدمت کر کے جنت حاصل کر سکتے ہو ۔ تم اپنے ماں باپ کی خدمت کرو تاکہ جب تم بوڑھے ہو جاؤ تو تمہاری اولاد تمہاری خدمت کرے ۔ جب تک تمہارا رخ اگلی طرف رہے گا تمہیں دکھ ہی دکھ ہو گا لیکن اگر پیچھے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ تو تمہارے بچے تمہاری خدمت کریں گے اور دنیا کا دوزخ جنت سے بدل جائے گا۔ له الفضل ۱۰۔ ستمبر ۱۹۴۰ء صفحہ ۲۔ لله كنز العمال جلد ۱۶ صفحه ۴۶۱ روایت نمبر ۴۵۴۳۹ مطبوعه حلب ۱۹۷۷ء ه ترمذی ابواب النكاح باب ماجاء في من ينكح على ثلث خصال ته مشکوة - كتاب الصلوة باب التحريض على قيام الليل - الفضل ۹ - نومبر ۱۹۶۰ء صفحه ۳ تا ۵)