خطبات محمود (جلد 3) — Page 489
۲۸۹ جلد سوم باپ کا نام کیا تھا اور وہ کیا کام کرتے تھے ؟ مجلس لگی ہوئی تھی باتیں ہو رہی تھیں ہر شخص اپنے باپ کا نام اور اس کی تعریف بیان کر رہا تھا اور اس طرح سب اپنے باپوں کا ذکر کر رہے تھے اور آخر نادر شاہ کی باری آئی کہ آپ اپنے باپ کا نام اور اس کی تعریف بیان کریں۔اس نے اپنی تلوار کے دستہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور کہا کہ میرے باپ کا نام یہ ہے تم میرے باپ کا نام اس لئے پوچھ رہے ہو کہ میری تذلیل کرو اور اپنے باپوں کی تعریف بیان کرتے ہو۔مگر یہ نہیں دیکھتے کہ - تم اس وقت میرے غلام ہو اور اگر میں چاہوں تو فوراً تمہاری گردن اڑا دوں۔اسی طرح صحابہ کا ایک وفد ایک دفعہ ایران کے بادشاہ کے پاس گیا اس نے ان سے کہا تم روپیہ لے لو اور واپس چلے جاؤ تم میں سے ہر ایک سپاہی کو ایک پونڈ اور ہر افسر کو دو پونڈ دے دوں گا تم یہ رقم لے لو اور چلے جاؤ۔اس نے ان کی قیمت بھی کیا لگائی اس نے ان سے کہا کہ تم وہیں کھانے والے، اونٹ کا دودھ پینے والے اور ہر وقت آپس میں لڑنے والے لوگ ہو تم کو حکومت سے کیا واسطہ یہ پیسے لے لو اور واپس چلے جاؤ۔رئیس وفد نے جواب دیا کہ بے شک یہ بات صحیح ہے کہ ہماری حالت واقعی یہی تھی مگر وہ باتیں اس وقت کی ہیں جب ہم میں اسلام نہیں آیا تھا اب ہم نے اسلام کو قبول کر لیا اور اب ساری دنیا پر ہم نے حکومت کرنی ہے۔یہ بات سن کر بادشاہ کو غصہ آیا اور اس نے اپنے خادموں کو اشارہ کیا کہ مٹی کا بورا لے آؤ اور تذلیل کے لئے مٹی کا بورار میں وفد کے سر پر رکھوا دیا اور کہا کہ جاؤ اس کے سوا تمہیں کچھ نہیں دیا جا سکتا۔مگر وہ لوگ جنہیں جاہل اور اونٹ کا دودھ پینے والے سمجھا جاتا تھا ان کو اللہ تعالٰی نے اسلام کے طفیل بے انتہاء عقل دے دی تھی۔وہ جانتے تھے مشرک وہمی ہوتا ہے اس لئے جب مٹی کا بورا ان کے سر پر رکھا گیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ چلے آؤ چنانچہ وہ سب دوڑے اور کہا کہ ایران کے بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے ایران کی زمین ہمارے حوالہ کردی ہے۔اس پر بادشاہ نے سواروں کو حکم دیا کہ دوڑو پکڑو اور کسی نہ کسی طرح یہ مٹی واپس لے آؤ مگر وہ اس وقت تک دور نکل چکے تھے۔سے اسی طرح دنیا آج سمجھتی ہے کہ یہ جماعت غریبوں اور جاہلوں کی جماعت ہے دوسری سوسائٹیوں میں ملنا جلنا ہی بہتر ہے اور ان ہی میں شامل ہو کر عزت حاصل ہو سکتی ہے۔مگر یاد رکھو ان سب کے نام و نشان مٹنے والے ہیں حتی کہ ان کے گھروں کو دیکھ کر رونا آئے گا۔آج بے شک ہم کمزور نظر آتے ہیں اور اسلام مغلوب دکھائی دیتا ہے مگر وہ دن دور نہیں جب بڑے