خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 467

خطبات محمود جلد سوم چلے گئے جو کھانے کے لئے مخصوص تھا ہمارے ملک میں تو یہ بات نہیں مگر مصر میں کثرت سے یوروپین لوگ آتے ہیں وہاں بہت سے یورپین بیٹھے تھے کچھ ہم ہندوستانی چلے گئے ۔ مصر میں ۔ ایک کھانا ہوتا ہے جسے میکرونی (معکرونہ) کہتے ہیں وہ اٹالین سویاں ہوتی ہیں اور بڑی لمبی لمبی ہوتی ہیں ان کے متعلق قاعدہ ہے کہ پہلے انہیں ابال لیتے ہیں اور پھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ لیتے ہیں اور ایک ایک ٹکڑا کانٹے میں پرو کر اور اسے لپیٹ کر منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ ان انگریزوں میں سے ایک ایسا تھا جو غالبا نیا ہی مصر میں آیا تھا اور اس نے میکرونی کبھی کھائی نہیں تھی۔ ہم چونکہ اٹالین جہاز میں گئے تھے اور ہمیں پتہ تھا کہ میکرونی کسی طرح کھاتے ہیں اس لئے ہمیں تو کوئی وقت محسوس نہ ہوئی مگر اس انگریز کو سخت مشکل پیش آئی اور اتفاقا وہ سویاں کچھ خاص طور پر لمبی تھیں۔ وہ بیچارا سویوں کو کانٹے سے اٹھاتا اور آہستہ آہستہ منہ کی طرف لاتا اور یوں معلوم ہو تا جس طرح اس نے مرا ہوا سانپ اٹھایا ہوا ہے مگر چونکہ وہ بہت لمبی تھیں اس لئے جب منہ میں ڈالنے لگتا تو پھسل کر گر جاتیں ۔ وہ پھر میکرونی اٹھاتا اور چیچہ سے نیچے سہارا دیتا اور آہستہ آہستہ اوپر لاتا مگر جب منہ کے قریب پہنچتیں تو دوسری طرف سے پھسل کر نیچے جاپڑ تھیں۔ یہ دیکھ کر اسے سخت ندامت محسوس ہوتی اور اسی شرم کے مارے وہ آنکھ اٹھا کر کسی کی طرف نہ دیکھتا اور سر جھکائے چار پانچ دفعہ اس نے چاہا کہ میکرونی منہ میں ڈالے مگر اسے کھانے کا طریق معلوم نہ تھا اس لئے وہ پھسل پھسل کر نیچے جاپڑتیں اور دوسرے لوگ اسے دیکھ دیکھ کر ہنتے رہے۔ یہی حال انسان کا ہے وہ بھی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات میں سے سب جباریت سب قهاریت اور سب قادریت میں لے لوں اور جس قدر ربوبیت اور رحیمیت اور رحمانیت کی صفات ہیں وہ دوسرے لے لیں اور اس طرح وہ سمجھتا ہے کہ وہ خالی جباریت، خالی قہاریت اور خالی مالکیت لے کر خدا تعالیٰ کی صفاء صفات کا مظہر ہو گیا حالانکہ خالی جباریت، خالی قہاریت اور خالی مالکیت شیطان میں ہوتی ہے ۔ پس جس وقت وہ سمجھتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہو گیا دراصل وہ شیطان کی صفات کا مظہر بنا ہوا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نور اس کے دل سے نکل چکا ہوتا ہے ۔ کیونکہ صفات اللہ کے ٹکڑے کرنا شیطان کا کام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالٰی قرآن کریم میں کفار کے متعلق فرماتا ہے کہ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ - سے کہ انہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہے۔ پس جو شخص صفات الہیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے بیٹھ جاتا ہے وہ کافر