خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 465

خطبات محمود ۴۶۵ جلد سوم نیچے کا حصہ میں لوں گا اور اوپر کا حصہ تم لینا۔ اس پر فیصلہ ہو گیا اور اس نے مولیاں بیچ دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب تقسیم کا وقت آیا تو مولیاں آپ لے گیا اور پتے دوسرے شخص کو دے دیئے ۔ دوسری دفعہ پھر اس نے اس سے اشتراک کیا اور پوچھا کہ اب کون سا حصہ لو گے اس نے سوچا کہ پہلے اوپر کا حصہ لے کر مجھے گھاٹا رہا تھا اب میں نچلا حصہ لیتا ہوں چنانچہ کہنے لگا نچلا حصہ میں لوں گا اور اوپر کا حصہ تم لے لینا۔ اس نے گیہوں بو دیتے نتیجہ یہ ہوا کہ دانے دانے یہ گھر میں سانے نے آیا اور ڈنٹھل اسے لینے پڑے، یہ تلخ تجربہ دیکھ کر وہ کہنے لگا اب پھر ہم اکٹھی کھیتی ہوتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اوپر کی چیز بھی میں لوں گا اور نیچے کی بھی میں لوں گا تم درمیان کی چیز لے لینا۔ اس نے سمجھا کہ اگر اب کی مرتبہ اس نے مولیاں بیچ دیں تب بھی مجھے فائدہ رہے گا اور اگر گیہوں ہوئے تب بھی فائدہ رہے گا مگر اس نے مکئی بو دی اور جب فصل کاٹنے کا وقت آیا تو اوپر نیچے کے ٹانڈے اسے لینے پڑے اور دانے یہ گھر لے آیا۔ میں حال انسان کا ہے۔ خدا نے تو یہ چاہا تھا کہ وہ کچھ مالکیت لے لے، کچھ قہاریت لے لے، کچھ جباریت لے لے، کچھ ستار بنے، کچھ غفار بنے، کچھ رحیم بنے، کچھ کریم بنے، کچھ غفور ہے، کچھ شکور بنے اور اس طرح تھوڑی تھوڑی صفات اللہ تمام انسانوں میں تقسیم ہو جائیں اور سارے انسان ہی میری صفات کا مکمل نمونہ بنیں اور ان کے آئینہ میں میری ہر صفت کا انعکاس ہو ۔ مگر یہ خدا تعالیٰ کی صفات کو تقسیم کرنا چاہتا ہے جیسے بکرے کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صفات الہیہ کا انعکاس بھی منقسم ہوتا ہے مگر وہ جہاں بھی جاتا ہے سارے کا سارا جاتا ہے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نہیں جاتا۔ تم ایک آدمی کے سامنے ہزار آئینہ بھی رکھ دو۔ ہر آئینہ میں اس کی تصویر آئے گی۔ یہ نہیں ہو گا کسی میں اس کی ناک آئے، کسی میں سر، کسی میں ہاتھ اور کسی میں پاؤں بلکہ ہزار آئینے میں ہزار ہی اس کی مکمل تصویر میں ہوں گی۔ اور اگر ہزار کی بجائے تم لاکھ یا کرو ڑ یا ارب آئینہ بھی رکھ دو تو یہ نہیں ہو گا کہ کسی میں اس کا سر آگیا تو کسی میں ٹانگیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کے اندر انسان کی مکمل صورت آجائے گی۔ یہی خدا تعالیٰ کا انسان کو اپنی صفات کا جلوہ گاہ بنانے سے منشاء ہے یعنی وہ اپنا انعکاس چاہتا ہے نہ کہ تجزیہ اور تقسیم ۔ مگر انسانوں نے خدا تعالیٰ کی صفات کا مکمل انعکاس ظاہر کرنے کی بجائے اس کی صفات کو تقسیم کرنا شروع کر دیا جیسے بکرے کی کلیجی اور اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا