خطبات محمود (جلد 3) — Page 416
خطبات محمود ۴۱۶ ۱۰۳ جلد سوم نیکی اور اس کے طبعی نتائج فرموده ۱۸ جون ۱۹۳۷ء) ۱۸۔جون ۱۹۳۷ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بعد نماز عصر دو نکاحوں کا اعلان فرمایا سے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- دنیا میں دو قسم کے خیالات نیکی کے متعلق رائج ہیں۔ایک خیال یہ ہے کہ نیکی نیکی کی خاطر کرنی چاہئے اور اس قسم کی نیکی میں بدلہ کا سوال ہرگز دل میں نہ آنا چاہئے ورنہ وہ نیکی برباد ہو جاتی ہے۔دوسرا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نیکی کے بدلے میں جزاء کا پیش کرنا یا جزاء کی امید رکھنا یا جزاء کی امید دلوانا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ جائز اور درست ہے۔یہ دونوں خیالات نیکی کے متعلق اس زمانہ میں خصوصیت کے ساتھ زیر بحث آتے ہیں۔یورپ کے فلسفی ہمیشہ یہ سوال کرتے ہیں کہ نیکی کے بدلہ میں جزاء کا پیش کرنا یا جزاء کی امید رکھنا یا امید دلانا انسان میں لالچ پیدا کرتا ہے اور اسے حریص بناتا ہے۔یعنی جو شخص جزاء کو سامنے رکھ کر نیکی کرتا ہے وہ لالچی اور حریص ہے اور جو شخص کسی نیکی کے بدلے میں امید دلاتا ہے وہ گویا اس آدمی میں حرص اور لالچ پیدا کرنے والا ہے۔اسی فلسفیانہ خیال کو لے کر عیسائی پادری اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کی بیان کی ہوئی نیکی کی تعریف انسان میں لالچ پیدا کرتی ہے اور جو اصول اسلام نے نیکی کے متعلق پیش کئے ہیں وہ انسان میں حرص پیدا کرتے ہیں یا ایسے امور کی طرف انسان کو لاتے ہیں جو حرص پیدا ہونے کا باعث ہوتے ہیں۔بالعموم دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان نوجوان اس خیال سے متأثر ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ