خطبات محمود (جلد 3) — Page 398
خطبات محمود ۳۹۸ جلد سوم اور انہیں کہہ رہے تھے کہ تم اتنی عورتیں ہو بتاؤ تم میں سے کتنی شادی شدہ ہیں اگر تم اسلام کی تعلیم پر عمل کرو تو تمہاری زندگی سدھر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا اگر چہ زبان سے ہم اقرار نہ کریں مگر دل سے ہم یہ محسوس کرتی ہیں کہ تعدد ازدواج کے متعلق اسلامی تعلیم پر عمل کرنے سے ہماری زندگیاں سدھر سکتی ہیں اور اگر ملک میں یہ قانون رائج ہو جائے تو بے شمار نقائص دور ہو سکتے ہیں۔ ابوبکر اور میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ خلفاء میں سے ایک بھی نہیں جن کی ایک بیوی ہو یعنی حضرت ابو ت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، اور حضرت علی سب نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں۔ پانچویں خلیفہ جن کی خلافت مشتبہ ہے اور جنہیں اس لئے خلیفہ تصور نہیں کیا جاتا کہ اگر وہ اصل میں خلیفہ ہوتے تو خلافت سے خود بخود دستبردار نہ ہوتے۔ ان کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بہت زیادہ شادیاں کیں۔ ایک دفعہ مجھے کسی نے بتایا کہ مولوی محمد علی صاحب نے میری ایک شادی پر اعتراض کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ہاں تو اولاد نہیں ہوتی تھی اس لئے انہوں نے زیادہ شادیاں کی تھیں۔ میں نے کیا کیا حضرت ابو ہا لر اور حضرت عثمان کے ہاں بھی اولاد نہیں ہوتی تھی کہ انہوں نے زیادہ شادیاں کیں؟ پھر حضرت امام حسن جن کے متعلق بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ تھے حالانکہ انہوں نے خلافت کو خود ترک کیا اگر فی الواقع خلیفہ ہوتے تو ایسا نہ کرتے ان کی تو اتنی شادیاں بتائی جاتی ہیں کہ ان کے جواز کے لئے کئی وجوہات پیش کی جاتی ہیں۔ حضرت خلیفہ اول کا خیال تھا کہ چار سے زیادہ شادیاں کی جاسکتی ہیں۔ میر محمد الحق صاحب ایک دن میرے پاس دوڑے دوڑے آئے۔ ان کی طرز رفتار ایسی تھی کہ گویا کوئی معرکہ سر کر کے آئے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگے کہ یہ بات ثابت ہوگا گئی ہے کہ چار سے زیادہ شادیاں کی جاسکتی ہیں اور ایک حدیث نکل آئی ہے ۔ چنانچہ ان کی بغل میں حدیث کی کتاب تھی اور اس میں کاغذ بطور نشان بھی رکھا ہوا تھا اس میں حضرت امام حسن کی بہت سی شادیوں کا ذکر تھا۔ ہمیں اس وقت اتنا علم نہیں تھا کہ اس حدیث پر بحث کرتے۔ پندرہ سولہ سال کی عمر ہوگی میں نے کہا کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو حدیثوں کا علم نہیں؟ کہ آپ فرماتے ہیں کہ ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں نہیں کی جاسکتیں آپ کے سامنے یہ حدیث پیش کی جائے ۔ اس پر میر محمد اسحق صاحب کتاب لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حوالہ پیش کیا لیکن جب تھوڑی دیر کے بعد ا