خطبات محمود (جلد 3) — Page 25
خطبات محمود ۲۵ جلد سود کونسا نکاح بابرکت ہوتا ہے (فرموده ۲۷- دسمبر ۱۹۱۷ء) ۲۷- دسمبر ۱۹۱۷ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جلسہ سالانہ کے موقع پر (1) مسماۃ دانی کا نکاح احمد سے ایک سو روپیہ صریر۔(۲) مسماۃ محمد بی بی کا نکاح جان سے ایک سو روپیہ مہر پر (۳) مسماۃ سکینہ کا نکاح مولا بخش سے اڑھائی سو روپیہ مہر پره (۴) مسماة بی بی فاطمہ جمیلہ بنت مولوی محمد احسان الحق صاحب بھاگلپوری کا نکاح محمد ظریف صاحب متعلم بی۔اے کلاس سے سات ہزار مہر پر - (۵) مسماۃ فاطمہ بیگم کا نکاح غلام قادر سے پانچ سو روپیہ صریر۔(۲) مسماۃ زینب بی بی کا نکاح جھنڈو سے دو سو روپیہ مہر پر اور (۷) مسماۃ سلطانیہ بیگم کا نکاح عبد الغنی سے پانچ سو روپیہ مر پر پڑھا۔خطبه مفسونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ہماری جماعت کے بہت لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے نکاح قادیان میں ہوں اور اس زمانہ میں حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد وہ خواہش کرتے ہیں کہ ان کے نکاح میں پڑھوں لیکن سب دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک بعض مقامات خاص طور پر بابرکت ہوتے ہیں اور ان میں جو کام کیا جائے اس میں خدا تعالی برکت ڈالتا ہے اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ خدا تعالٰی اپنے فضل اور رحم سے بعض بندوں کے متعلق چشم پوشی، غریب نوازی اور رحم اور شفقت کو کام میں لاکر ان کے پڑھے ہوئے نکاح میں بھی برکت رکھ دیتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا