خطبات محمود (جلد 3) — Page 24
خطبات محمود ۲۴ جلد سوم کرنے پڑیں گے نہ یہ کہ گورنمنٹ کے سپاہی اس سے نیت پر کوئی باز پرس کریں گے۔ہاں اس نیت کے بدلنے سے اس کی اخلاقی حالت میں عمدہ تغیر ہوا اور ثواب میں بھی فرق ہوا۔تقویٰ کی نیت معمولی بات نہیں۔نیتوں کے اثر ہوتے ہیں۔مثلا کسی شخص کی گردن پر بھڑ بیٹھی ہو یا بچھو بیٹھا ہو اگر آہستہ سے ہاتھ رکھو گے کاٹ کھائے گا لیکن اگر زور سے اس نیت سے مارو کہ دوست کو اس کے ذریعہ سے گزند نہ پہنچے تو وہ جانو ر ادھ موا ہو کر گرے گا۔تو اس وقت اس کے تم نے زور سے تھپڑ مارا مگر تمہاری نیت خیر تھی اس لئے وہ دوست بجائے ناخوش ہونے کے خوش ہو گا۔پس فرمایا کہ تمہاری نیست اس معاملہ میں تقویٰ کی ہو اور تم تقویٰ سے کام لو۔دوسرے اس معاملہ میں بہت جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے اور دونوں طرف سے جھوٹ بولتے ہیں۔لڑکے والے وہ باتیں کہتے ہیں جو در حقیقت ان میں نہیں ہو تیں۔اپنی حیثیت بہت بڑھ چڑھ کر بتاتے ہیں اور لڑکی والے اپنی لڑکی کے بہت سے ہنر بتاتے ہیں۔فرمایا تم صدق و سداد سے کام لو، صفائی کی بات ہو بیچ میں ایچ بیچ کی باتیں نہ ڈالی جائیں۔میرا خیال ہے کہ اگر مسلمان ان دونوں حکموں کو مانتے ہوئے نکاح کریں تو پھر کوئی بات نہیں پیدا ہو گی چونکہ خواہشات نفسانی کے ماتحت شادیاں اور نکاح کئے جاتے ہیں اس لئے فساد ہوتا ہے۔ہمیشہ تقوی مد نظر ہو۔خفیہ تدابیر نہ ہوں پھر کوئی فتنہ نہیں پڑتا۔اللہ تعالٰی ہماری جماعت کو توفیق دے تا ان احکام پر چلیں اور حقیقی لذت حاصل کریں۔آمین۔اه بخاری کتاب الاطعمة باب التسمية على الطعام والاكل باليمين - (الفضل ۱۸- ستمبر ۱۹۱۷ صفحه ۵)