خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 377

خطبات محمود ۳۷۷ جلد سوم فرمایا وہ ہمارا نمائندہ ہے اس کے ساتھ سختی ہمارے ساتھ سختی ہے۔آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا ہے۔مَنْ اَ طَاعَنِى فَقَدْ اَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى الله- له اظلال کی نافرمانی کو اصل بھی برا مناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی جماعت کو ان تینوں محبتوں میں جو خدا تعالٰی کی محبت کا ظل ہیں نہایت کامل نظر آتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے متعلق احادیث میں آتا ہے۔ماں باپ تو آپ کے موجود نہ تھے مگر آپ کی رضاعی والدہ تھیں اور جب وہ تشریف لاتیں تو حضور دور ہی سے دیکھ کر تیز تیز دوڑ کر جاتے اور فرماتے امی امی اور اپنی چادر بچھا دیتے۔کہ بیویوں کے ساتھ سلوک کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ اس قدر خیال رکھتے جہاں سے بیوی برتن کو منہ لگا کے پانی پیتیں آپ بھی اسی جگہ پر منہ لگا کر پیتے۔حضرت عائشہ کے متعلق ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ ان کے سر میں درد تھا آنحضرت ا گھر میں تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا میرے سر میں درد ہے آپ نے فرمایا معمولی بات ہے انشاء اللہ آرام ہو جائے گا کوئی فکر کی بات نہیں۔حضرت عائشہ نے کہا آپ کا کیا ہے میں مرجاؤں گی تو آپ کسی اور سے شادی کرلیں گے۔آپ نے فرمایا عائشہ نہیں۔میں فوت ہو جاؤں گا اور تم زندہ رہوگی۔شو چنانچہ نبی کریم ﷺ کی وفات آپ سے پہلے ہوئی۔پھر حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔میں جب بھی یہ واقعہ یاد کرتی ہوں تو مجھے ہمیشہ اس بات سے دکھ ہوتا ہے کہ میں نے اس رنگ میں اس وقت کیوں گفتگو کی۔اسی طرح اولاد کی محبت کے متعلق بھی نبی کریم ا کا طریق نہایت ہی کامل نظر آتا ہے۔انبیاء در حقیقت اس بات کو دیکھتے ہیں کہ اولاد کی محبت خدا تعالی کی ظلی محبت ہے جو آئندہ کی زمانے کے لئے خدا تعالٰی نے ممد بنائی ہے۔رسول کریم ﷺ کی نرینہ اولاد تو بڑی عمر کی نہیں ہوئی۔لیکن آپ کی لڑکیاں تھیں اور نواسے تھے ان کے ساتھ ہمیشہ آپ محبت اور پیار کا جو سلوک فرماتے اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کس قدر محبت ان سے کرتے تھے۔بعض دفعہ کوئی کم سن بچہ نماز میں آپ کے اوپر آبیٹھتا مگر آپ سجدہ میں ہی رہتے جب تک کہ بچہ خود بخود نہ اٹھا۔پھر آپ نے فرمایا کہ اپنی اولاد کی عزت کرو۔اولاد چونکہ خدا تعالی کا ظل قرار پائی اس لئے عزت کے قابل ہے۔پس ان تمام محبتوں میں ایک سبق ہے اگر انسان سبق لینا چاہے۔اپنے ماں باپ کی محبت دیکھے اور سمجھے کہ یہ دراصل خدا تعالی ہی کی محبت ہے جو اس ذریعہ سے میرے ساتھ بول رہی