خطبات محمود (جلد 3) — Page 378
خطبات محمود ۳۷۸ ہے وہ خود ایک وراء الورئی ہستی ہے مگر اس کی محبت ان کھڑکیوں میں سے جھانکتی ہے۔وہ ابتدائی محبت کو ماں باپ کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور حال کی محبت کو میاں بیوی کی محبت کے ذریعہ اور آئندہ زمانہ کی محبت کو اولاد کے ذریعہ۔یہ تینوں مدرسے ہیں انسان کے تینوں زمانوں کے لئے۔پس انسان کو ان مدرسوں سے حقیقی سبق حاصل کرنا چاہئے تب یہی چیزیں مبارک بن جاتی ہیں اور دنیا نہیں بلکہ دینی نعماء قرار پاتی ہیں۔ان سے ان محبتوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت کے اظلال سمجھنے کا پتہ اس طرح لگتا ہے کہ اگر ان تعلقات میں اللہ تعالی ہی کی محبت مر نظر ہو تو جب ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کے مقابل پر آئے اس سے تعلق قطع ہو جانا چاہئے۔سب سچی محبتیں اللہ تعالی کی محبت کا ظل ہو جاتی ہیں۔اور ایسے کل میں خرابی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔جب کوئی ظل خدا تعالیٰ سے دور ہو تو اس کی ظلیت میں فرق آجائے گا۔ایسے وقت میں خدا تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والا انسان الگ ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ماں باپ کا ادب ہو مگر جہاں وہ شرک کی تعلیم دیں تو انسان کھڑا ہو جائے اور کہہ دے پہلے آپ ظل اللہ تھے مگر اب نہیں رہے لہذا اب میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا۔اسی طرح اگر میاں بیوی یا اولاد میں سے کوئی ظل اللہ ہونے کی حیثیت کو چھوڑ دے تو خدا تعالیٰ کا سچا عاشق بھی اسی وقت ان سے محبت چھوڑ دیتا ہے۔جہاں کوئی اخلاق سے یا دین سے گرتا ہے خدا کے لئے محبت کرنے والا انسان کھڑا ہو جاتا ہے۔جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے متعلق کہا جب خدا تعالٰی نے کہا کہ یہ ہمارا ظل نہیں رہا تو حضرت نوح نے اس سے قطع تعلق کر لیا۔غرض جہاں اولاد کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے بالمقابل آجائے تو وہاں خدا تعالیٰ کی محبت ہی مقدم رہنی چاہئے اور یہی حال دوسری محبتوں میں ہونا چاہئے ان میں کبھی پیدا ہو جانے کے موقع پر ان چیزوں کے ساتھ محبت سرد ہو جانی چاہئے کیونکہ پھر محبت نا جائز ہو جاتی ہے ہاں ان کی اصلاح کی کوشش کرنا منع نہیں۔پس یہ نہایت ہی بابرکت مدرسے ہیں جن سے بہت کچھ سبق حاصل کیا جاسکتا ہے مگر افسوس کہ کم لوگ ان سے سبق حاصل کرتے ہیں۔الفضل ۱۸ جنوری ۱۹۳۶ء صفحه ۵۰۴)