خطبات محمود (جلد 3) — Page 351
۳۵۱ جلد سوم خطبات محمود ہوتا ہے جب تک وہ دین کے راستہ پر گامزن رہتی ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ سے ایک دفعہ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! عرب قبائل میں سے بڑے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو بحالت کفر بڑے تھے وہی اب بھی بڑے ہیں بشرطیکہ ان میں نیکی پائی جاتی ہو اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہو۔سلے بے شک خاندانی بڑائی بھی ہوتی ہے مگر وہ مشروط ہوتی ہے نیکی اور تقویٰ کے ساتھ۔اگر وہ اس امر کی پرواہ نہیں کرتے اور اگر وہ دنیا کے کیڑوں اور کتوں کی طرح دنیا پر گرے جاتے ہیں تو وہ دوسروں سے زیادہ سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں۔یہ خدا کا کام ہے اور اگر ہم اس کام کو نہیں کریں گے تو اور لوگ کھڑے کر دیئے جائیں گے۔لیکن وہ دن بد ترین دن ہو گا جب خدا کہے گا کہ رجال فارس نے اشاعت دین سے اپنا منہ موڑ لیا آؤ اب ہم دوسروں کو یہ کام کرنے کا موقع دیں۔یہ خدا کی دین ہے اور اس کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں کام کرنے کا موقع دیا ورنہ وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ قربانی کر رہا ہے تو چاہے وہ کام کرتے کرتے مٹی میں مل جائے اور منہ سے مئومن ہونے کا دعوی کرے وہ منافق ہے کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کی عطا کو قربانی کا نام دیا قربانی کرنے والا ہمیشہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔اليد العليا خَيْرٌ مِنَ اليد السفلى - هله پس ہمیں دین کی خدمت کرتے ہوئے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم قربانی کر رہے ہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ہم سے کام لے رہا ہے۔اگر تم اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اگر تم دین کے لئے فقیر ہونا برداشت نہیں کر سکتے، اگر تم دین کے لئے بھیک مانگنا پسند نہیں کر سکتے، اگر تم دینی خدمت کو ہفت اقلیم کی بادشاہی سے زیادہ اعزاز والا کام نہیں سمجھتے تو تمہارے اندر ایک جو کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں سمجھا جا سکتا۔لوگ کہتے ہیں سوال بری چیز ہے اور میں بھی سمجھتا ہوں کہ سوال بری چیز ہے لیکن اگر خدا اور اس کے دین کے لئے ہمیں سوال کرنا پڑے تو یہ کام بھی ہمارے لئے عزت کا کام ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ تم دین کی خدمت کر کے کوئی قربانی کر رہے ہو۔یہ خدا کا احسان ہے جو تم سے کام لے رہا ہو مگر مجھے افسوس ہے میں نے بعضوں کو دیکھا ہے وہ اپنے نفس میں یہ ہیں کہ وہ قربانی کر رہے ہیں اور کہتے ہیں آؤ اب فلاں قربانی بھی کر لیں حالانکہ اگر کسی کے سامنے پلاؤ زردہ، کباب اور مرغ وغیرہ پکا ہوا پڑا ہو اور دال بھی ہو تو کیا وہ کہا کرتا ہے شخص