خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 323

جلد سوم خطبات محمود نمیں ۳۲۳ اچھی نہ ہو تو وہ روپے کس کام کے۔اس کے مقابلہ میں اگر صحت اچھی ہو اور روپیہ چلا جائے تو پھر بھی لوگ کام چلا لیتے ہیں۔اسی طرح لوگ بچوں کی تعلیم پر روپیہ خرچ کرتے ہیں وہ آئندہ کے متعلق یہ خیال رکھتے ہیں کہ بچے قابل ہو کر کمائیں گے اور جب ہم کمانے کے قابل نہ رہیں گے تو ان کی کمائی کھا ئیں گے اس خیال کو مد نظر رکھ کر وہ اپنا روپیہ بنک میں جمع کرانے کی بجائے بچوں کی تعلیم و تربیت پر صرف کرتے ہیں۔لیکن عام طور پر لوگ آئندہ کا خیال رکھنا سمجھتے بلکہ گھر میں یا بنک میں روپیہ جمع کرانے کو آئندہ کا خیال قرار دیتے ہیں حالانکہ یہی آئندہ کا خیال نہیں بلکہ اپنی صحت کے لئے خرچ کرنا، اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرنا، اپنی قوم کی ترقی کے لئے خرچ کرنا بھی آئندہ کا خیال رکھنا ہی ہے۔اس بارے میں جو بات مد نظر رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ جو چیز آئندہ کے لئے رکھی جارہی ہے کیا ضرورت کے موقع پر وہ کام آجائے گی۔ایک شخص لاکھوں روپیہ جمع کر کے جنگل میں کسی جگہ دفن کر دیتا ہے جس کا اسے خود بھی پتہ نہیں لگتا تو وہ روپیہ اس کے کس کام کا یا کسی بنک میں جمع کرتا ہے اور بنک فیل ہو جاتا ہے تو اسے کیا ملے گا۔بچوں کو تعلیم دلانے پر خرچ کرتا ہے لیکن بچے سب کچھ کرانے کے کسی کام کے قابل نہیں بنتے یا قابل ہو کر ماں باپ کی خدمت نہیں کرتے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول ایک ہندو کے متعلق سنایا کرتے تھے۔اس نے اپنی ساری جائداد بیچ کر اپنے لڑکے کو تعلیم دلائی۔اس زمانہ میں ای اے سی بہت بڑا عہدہ سمجھا جاتا تھا اس لڑکے کو یہ عہدہ مل گیا ایک دفعہ اس کا باپ اس کے پاس ایسی حالت میں گیا کہ میلی سی دھوتی جس طرح عام طور پر ہندو باندھتے ہیں باندھے ہوئے تھا اب بھی یہ طریق ہے لیکن پہلے زیادہ تھا کہ کھلی جگہ لوگ تفریح کے طور پر بیٹھا کرتے تھے اسی طرح اس ہندو کا لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور اس کے کچھ دوست جمع تھے اس کا باپ وہاں ہی چلا گیا اور جا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔اس کی ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے اس کے کری پر آبیٹھنے کی وجہ سے بعض کو تعجب بھی ہوا کہ یہ کون ہے جو یہاں آبیٹھا ہے۔اسے جسے اس نے اپنی جائداد بیچ کر تعلیم دلائی تھی یہ کہتے ہوئے شرم محسوس ہوئی کہ یہ میرا باپ ہے اس نے کہا یہ ہمارا پرانا ٹیلیا (خادم) ہے۔یہ سن کر اسے بہت غصہ آیا کہنے لگا اس کا ٹملیا نہیں اس کی ماں کا ٹملیا (خاوند) ہوں۔تو انسانی اخلاق اس درجہ گر سکتے ہیں کہ باپ کی خدمت کرنا تو الگ رہا اس کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا بھی اپنی ہتک سمجھنے لگ جاتے ہیں اور وہ ماں باپ جو توقع رکھتے ہیں کہ اولاد فائدہ پہنچائے گی بعض اوقات اولاد ان کی طرف منسوب ہونا بھی پسند