خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 322

۳۲۲ ۸۷ خطبات تم کل کے لئے کیا جمع کرتے ہو (فرموده ۱۴ ستمبر ۱۹۳۳ء) ۱۴۔ستمبر ۱۹۳۳ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مولوی فضل الہی صاحب کے لڑکے فضل الرحمن صاحب کا نکاح سید محمود شاہ صاحب سکنہ کلانور کی لڑکی حفیظ بیگم سے پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسانی فطرت ہمیشہ ہی آئندہ کے متعلق سوچتی ہے خیال رکھتی ہے۔بے شک ایسے انسان بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں جو آئندہ کا خیال نہیں رکھتے لیکن انسانوں میں سے اکثریت ایسے ہی انسانوں کی ہے جو آئندہ کا خیال رکھتی ہے۔خواہ وہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں، عیسائی ہوں، سکھ ہوں، کوئی ہوں لیکن بنی نوع انسان کی حالت کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا اکثریت آئندہ کا خیال نہیں رکھتی۔ایسی حالت میں صرف یہ نصیحت کر دینا کہ آئندہ کا خیال رکھنا چاہیئے کافی نہیں۔بالعموم انسان اس کا جواب یہ دیں گے کہ ہم آئندہ کا خیال رکھتے ہیں یہی وجہ ہے جہاں قرآن مجید نے آئندہ کے متعلق خیال رکھنے کی نصیحت کی ہے وہاں یہ بھی کہا ہے کہ انسان دیکھے آئندہ کا اس نے کیا خیال رکھا ہے۔کیونکہ صرف خیال کرلینا کافی نہیں۔باوجود آئندہ کا خیال کر لینے کے انسان تکالیف پاتا اور نقصان اٹھاتا ہے۔پس مسلمان یہ نہیں دیکھتا کہ اس نے آئندہ کا خیال کیا یا نہیں کیا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا خیال کیا یعنی جو چیز اس نے آئندہ کے لئے رکھی ہے وہ اس کے کام آسکتی ہے یا نہیں۔بعض لوگ اچھا کھا پی کر صحت کا خیال رکھتے ہیں اس کی بجائے اگر وہ روپے جمع کرتے ہیں اور ان کے گھروں میں ہزاروں روپے موجود ہوں مگر صحت