خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 318

جلد سوم PIA ۸۶ حقیقی ایمان کا نتیجہ، ترقیات (فرموده ۱۸- اپریل ۱۹۳۳ء) ۱۸- اپریل ۱۹۳۳ ء بعد نماز ظہر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جناب مرزا محمود بیگ صاحب گوجرہ کی لڑکی ناصرہ بیگم کا نکاح سید کرم شاہ صاحب کے ساتھ پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔انسان اپنے تمام کاموں میں اس بات کو ملحوظ رکھتا ہے کہ اسے کامیابی حاصل ہو اکثر لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جائز ذرائع سے انہیں اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہو تو نا جائز ذرائع اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح ان کو اپنا مقصد حاصل ہو جائے۔اسلام نے اس انسانی خواہش کو بھی باقی خواہشات کی طرح کنٹرول کیا ہے یعنی حد بندی میں مقید کیا ہے برخلاف دو سرے مذاہب کے جو کہتے ہیں کہ انسان کے لئے دنیوی ترقی اور دنیوی آرام و آسائش کی ضرورت نہیں بلکہ اسے دکھ اور تکلیف میں رہنا چاہئے۔اسلام نے اس کو رد کیا ہے اور یہ بات کی ہے کہ دنیوی نعمتیں بھی خدا کا فضل ہیں اور ان کا حصول نیکی کے منافی نہیں ہے لیکن دوسری طرف اسلام نے یہ بھی قرار دے دیا ہے کہ کامیابی وہ نہیں جسے کوئی انسان اپنے محدود اور ناقص علم سے تجویز کرتا ہے۔اسلام بتاتا ہے بہت سی حالتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان انہیں کامیابی سمجھتا ہے لیکن دراصل وہ کامیابی نہیں بلکہ ناکامی اور منزل ہوتا ہے۔اصل کامیابی اسی چیز میں ہوتی ہے جو انجام میں اچھی ہوتی ہے درمیانی اور عاجل کامیابی حقیقی کامیابی نہیں ہوتی۔اسی حد بندی کے بعد اسلام کہتا ہے اگر یہ بات تم اچھی طرح سمجھ لو اور اپنے اندر یہ اصلاح پیدا