خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 319

خطبات ٣١٩ کر لو تو پھر ہمارا ذمہ ہے کہ ہم سچے مومن کو اس کے مقصد میں کامیاب کریں۔اگر کوئی کامیابی کے معنے درمیانی اور عارضی خوشیاں سمجھتا ہے تو یہ چونکہ کامیابی نہیں اس لئے اس میں ہم اس کا ساتھ نہیں دے سکتے۔جس طرح ایک ہوشیار اور عظمند دوست نقصان رساں طریق عمل سے اپنے دوست کو روکتا ہے اور اگر وہ نہ رُکے تو خود اس کا ساتھ نہیں دیتا۔اسی طرح اللہ تعالی بھی کہتا ہے ایسی خواہشات جن کے پورا ہونے میں وقتی طور پر لذت پائی جائے لیکن اس کا انجام اچھا نہ ہو ان میں تمہارا ساتھ ہم نہیں دے سکتے ہاں اگر حقیقی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو دائمی خوشی پانے کی خواہش رکھتے ہو اور درمیانی حالتوں کو مقصد قرار نہیں دیتے تو اس کی نہ صرف ہم اجازت دیتے ہیں بلکہ ذمہ لیتے ہیں کہ ضرور کامیاب کر دیں گے۔اس کی طرف اللہ تعالی نے اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے کہ وَمَنْ تُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا اے فور کہتے ہیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کو۔اس آیت میں وہ دونوں باتیں بتائی گئی ہیں جو کامیابی کے لئے ضروری ہیں مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَ رَسٹوکے۔میں فرمایا تمہارے مقاصد ایسے نہ ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے مقاصد کے خلاف ہوں۔اگر ان کے مطابق ہوں تو پھر ہم تمہیں اس بات سے روکتے نہیں کہ دنیا کی خوشیاں حاصل کرو بلکہ فَقَدْ فَازَ فَوذَا عظيما - ہم ذمہ داری لیتے ہیں کہ تم کامیاب ہو جاؤ گے اور کامیابی بھی معمولی نہیں بلکہ عظیم الشان کامیابی حاصل ہوگی۔یہ اسلام کا دیگر مذاہب سے فرق ہے۔بعض مذاہب نے تو یہ کہا ہے کہ انسانی خواہشات بغیر حد بندی کے انسان کا مقصود ہیں مگر اسلام نے کہا یہ نہیں۔انسانی خواہشات حد بندی کے اندر اندر ہی اچھی ہیں اور ان کے لئے حد بندی یہ ہے کہ مَنْ تُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وہ خواہشات جو اللہ اور اس کے رسول کے منشاء کے ماتحت ہوں وہ اچھی ہیں۔پھر بعض مذاہب نے کہا ہے انسانی خواہشات کو مارنا، دکھ اور تکلیف اٹھانا، بڑا اور خراب کھانا کھانا انسانی کمال ہے اسلام کہتا ہے یہ بھی نہیں۔جو حد بندی ہم نے کی ہے اس کے اندر رہ کر انسانی خواہشات کو پورا کرنا اور ان کو نہ دبانا ہی کمال ہے۔ایسا کرنے سے علو ہمت حاصل ہوگی اور اس میں ہماری مدد شامل ہوگی۔اسلام نے یہ بات کس شان اور کتنی وضاحت کے ساتھ پایہ ثبوت تک پہنچائی۔اس وقت دیکھو جب رسول کریم ال تشریف لائے تو آپ کے آنے سے مسلمانوں کی ہمتیں کس قدر بڑھ گئیں اور ان کے ارادے کس قدر بلند ہو گئے ابتدائی حالات میں مسلمان کیا سمجھتے ہوں گے کہ انہیں دنیا میں کیا تغیر پیدا کرتا ہے۔