خطبات محمود (جلد 3) — Page 317
خطبات محمود ۳۱۷ جلد سوم حالت میاں بیوی کی شادی کے وقت ہونی چاہئے ۔ بظاہر یہ خوشی کا دن ہوتا ہے اور لوگ خوش ہوتے ہیں لیکن در حقیقت میاں بیوی اس وقت ایسا قدم اٹھا رہے ہوتے ہیں کہ جس کے متعلق انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ انہیں کہاں لے جائے گا۔ اس لئے شادی کے موقع پر تقویٰ ذکر الہی اور موقع پر ذکر امداد و استعانت الهی خاص طور پر طلب کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی نہیں جو نیک نتائج پیدا پیدا کر سکے۔ لوگ بڑی خوشی کے ساتھ شادی کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد ایسی گندی نکلتی ہے کہ ساری عمر روتے رہتے ہیں۔ کئی اچھے اور اعلیٰ خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ خیال آیا کرتا ہے کہ ابو جہل کے باپ کی شادی جب ہوئی ہوگی تو کس قدر خوشی منائی ہوگی۔ چونکہ یہ مالدار خاندان تھا اس لئے اس شادی کے موقع پر اونٹ پر اونٹ ذبح کیا گیا ہو گا بڑا اجتماع ہو گا، بڑی چہل پہل ہو گی مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ اس شادی کے نتیجہ میں ایسا سانپ پیدا ہونے والا ہے جس کا زہر سارے خاندان کی ہلاکت کا باعث ہو گا اور ایسا وجود رونما ہونے والا ہے جو اپنے ماں باپ اور دنیا کے درمیان لعنت کا پردہ حائل کر دے گا۔ غرض نکاح کے متعلق اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہونے والا ہوتا ہے اس لئے اس موقع پر اسی سے امداد حاصل کرنی چاہئے۔ الفضل ۴۔ اپریل ۱۹۳۳ء صفحہ ۶۷۵) له ترمذی ابواب القدر، باب ماجاء ان الاعمال بالخواتيم له الماعون : ۵ توطه : ۹۸ ه العنكبوت : ۶ ه الحشر : 19