خطبات محمود (جلد 3) — Page 274
خطبات محمود جلد سوم کر دیتا ہے تو شعر سمجھنے والے کہتے ہیں شعر میں جان ڈال دی۔وہ ذرا ترتیب کو بدل کر اور محاورے میں چستی پیدا کر دیتا ہے۔تو کہنے والے کہتے ہیں شعر میں جان ڈال دی۔کوئی مصور اپنے قلم سے ایسی گل کاری کرتا ہے کہ کوئی خوبصورت باغ یا اچھلتا ہوا سمند ریا بولنے پر آمادہ انسان کی تصویر دکھا دیتا ہے تو ایک ماہر فن دیکھ کر فورا کہہ اٹھتا ہے۔ہے تو یہ کاغذ کی تصویر مگر اس میں جان نظر آتی ہے اور معلوم ہوتا ہے ابھی بول اٹھے گی۔اگر جانور کی تصویر ہے تو کہتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے ابھی گانے لگ جائے گی یا اگر باغ کا نظارہ ہے تو کہتا ہے اسے دیکھ کر ایسے معلوم ہوتا ہے گویا ہم باغ میں آگئے۔اور واقعی پھولوں میں پھرنے لگے ہیں۔اس طرح مصور بھی تصویر میں جان ڈال دیتا ہے۔پس ان محاوروں سے معلوم ہوا کہ جان ڈالنے کے معنے ہیں کسی چیز کے بے معنی ہونے کا ازالہ کر کے بامعنی بنا دینا۔جب ہم کہتے ہیں استاد نے فلاں شعر میں جان ڈال دی تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ پہلے وہ شعر ایسا نہیں تھا کہ ہمارے دل کی گہرائیوں تک پہنچ جائے اور دل کی تاروں کو اس طرح نہیں چھیڑتا تھا کہ ان سے راگ پیدا ہو جائے مگر اب اس کے سننے سے ہمارے اندر ایک حرکت پیدا ہوتی ہے اسی طرح تصویر میں جان ڈالنے کے یہ معنے ہیں کہ اسے جاذب بنا دیا جائے اور اسے دیکھتے ہی دماغ افکار کے سمندر میں نئے نئے مطالب کی تلاش کے لئے غوطہ زن ہونے لگے گویا اسے بامعنی کر دیا گیا۔اسی طرح محمد رسول اللہ للی نے بھی ہر چیز کو جو بے معنی تھی یا معنی کر دیا اور اس طرح اس میں جان ڈال دی۔دنیا کی کوئی بات لے لو جس میں محمد رسول اللہ ا نے دخل دیا ہو یا اس پر ہاتھ رکھا ہو آپ کو نظر آئے گا کہ آپ کے ہاتھ رکھتے ہی گویا اس میں جان پڑ گئی۔صدقہ زکواۃ کو ہی لے لو پہلے بھی لوگ صدقہ اور زکوۃ دیتے تھے مگر اس میں کوئی جان نظر نہ آتی تھی۔یہی معلوم ہو تاکہ غریب لوگوں کی دوسرے بطور احسان مدد کر دیتے ہیں۔لیکن محمد رسول اللہ ا نے آکر اس میں بھی جان ڈال دی۔آپ نے بتایا ہر انسان کی کمائی میں دوسرے کا حصہ ہے دنیا میں کوئی شخص اکیلا کچھ نہیں کما سکتا۔ہر چیز دنیا میں تمام انسانوں کے لئے ہے۔وہ زمین جو میرے قبضہ میں ہے وہ صرف میرے لئے نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے لئے پیدا کی گئی تھی اس لئے یہ نہیں کہ میں مسکین کو دیکھ کر اور اس کی غربت پر رحم کھا کر بطور احسان اس کو کچھ دیتا ہوں بلکہ میری مملوکہ زمین میں ازل سے اس کا حصہ مقرر تھا۔کیا ہوا اگر بعض حالات