خطبات محمود (جلد 3) — Page 265
خطبات محمود ۲۶۵ کسی کو رستہ تو معلوم ہو مگر وہ اس پر چلے نہ۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ چلے لیکن اسے روکیں پیش آجائیں پھر یہ بھی ممکن ہے کہ روکیں بھی نہ ہوں لیکن کسی میں چلنے کی طاقت ہی نہ ہو۔یہ سب کچھ ممکن ہے مگر پہلی کوفت اور پہلی مشقت کہ صحیح راستہ معلوم ہو یہ ہمارے رستہ میں نہیں ہے۔پہلی بات نکاح کے متعلق جو رسول کریم ال نے قرآن سے مستنبط کر کے بیان کی اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ به وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ہ سے کہ اے مومنو! اگر تم اپنے لئے نجات کا رستہ تلاش کرنا چاہتے ہو۔اپنی ان تڑپوں اور آرزوؤں کو پورا کرنا چاہتے ہو جو نکاح سے وابستہ ہیں یاد رکھنا چاہئے جو آیت جہاں پڑھنے کا حکم ہے وہاں اسی موقع کے لحاظ سے اس کے معنے ہوتے ہیں۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ، جب کھانا کھانے کے وقت پڑھی جائے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ میں خدا کے نام سے کھانا کھانا شروع کرتا ہوں۔جب قرآن کریم پڑھنے کے وقت پڑھی جائے اس وقت قرآن کریم کا پڑھنا مد نظر ہوتا ہے۔اسی طرح جب یا تھا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاء - نکاح کے موقع پر پڑھیں گے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم نکاح میں کامیابی اور برکات چاہتے ہیں تو اس کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ اِتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِی خَلَقَكُم اس رب اور اس پرورش کنندہ کو نجات کا ذریعہ بناؤ جس نے تم کو پیدا کیا۔یہ سیدھی بات ہے کہ جب کوئی کسی چیز کو بناتا ہے تو وہ اس چیز کے لوازمات بھی پورے کرتا ہے جو شخص مکان بناتا ہے وہ اس کی دیواریں، چھت اور دیگر ضروریات پوری کرتا ہے۔اسی طرح جو گھوڑا خریدتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ وہ سواری کرنے یا گاڑی میں لگانے کے قابل ہے یا نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ جو خالق کل شئی اور رب العالمین ہے اس کے متعلق کب امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کوئی ایسا انسان پیدا کرے گا جس کی ضرورتیں پوری نہ کرے اس لئے کہا اِتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ۔اسے تم کیوں ذریعہ نجات اور کامیابی نہیں بناتے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ضروریات کی چیزیں موجود تو ہوتی ہیں لیکن ضرورت مند کو ان کا علم نہیں ہوتا۔جیسے ایک شخص کسی کے ہاں مہمان جاتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اپنی