خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 264

خطبات محمود هم مسلمان جو اسلام کو سمجھ کر مسلمان ہوتا ہے کسی حالت میں غیر مطمئن نہیں ہو سکتا۔اس کے دل میں بے چینی اور بے اطمینانی نہیں ہوتی کیونکہ اس کی طرف سے جستجو کامل ہو چکی ہے اس کے لئے راہ کھل کر آسانی پیدا ہو چکی ہے اب اس کا صرف اتنا کام ہے کہ اس راہ پر چلے اور اس طریق پر عمل کرے۔دوسرے لوگ جبکہ ابتدائی جستجو میں مشغول ہونے کی وجہ سے بے چینی اور بے اطمینانی محسوس کر رہے ہوتے ہیں ایک مسلمان مطمئن ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مومن کا نام نفس مطمئنہ رکھا گیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔یا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِى إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرُ ضِيَّةٌ - سے اس جگہ نفس مطمہ مسلمان کا نام ہے۔پس جو شخص صحیح طور پر اسلام لاتا ہے اور سمجھ کر اسلام کی پابندی اختیار کرتا ہے اسے جستجو کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔تلاش اس کی طرف سے محمد ﷺ کر چکے اب اس کا کام صرف عمل کرنا ہے چنانچہ دیکھ لو ہمارے سارے کام ہماری ساری تحریکات، ہمارے سارے اعمال ان سب کے لئے اسلام نے رستے بتا دیئے ہیں۔روحانی امور کا سمجھنا چونکہ غیر مسلموں کے لئے مشکل ہے اس لئے موٹی باتوں کا ذکر کرتا ہوں۔اسلام میں ہر تحریک اور ہر کام کے لئے رستہ، ہر مشکل کا حل اور ہر کامیابی کا طریق بتا دیا گیا ہے بچہ جب پیدا ہوتا ہے اس وقت کے متعلق بتا دیا کہ کیا کرنا چاہئے جب جوان ہوتا ہے اس وقت کے کام کی تفصیل بتادی جب بیاہ شادی کے قابل ہوتا ہے اس وقت کے متعلق ہدایات دے دیں۔پھر جب میاں بیوی کی حیثیت میں ہوتے ہیں اس وقت کے لئے تفصیلی احکام بیان کر دیئے۔پھر یہ احکام اس طرح کے نہیں کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو بلکہ یوں ہیں کہ یہ کام کرو گے تو یہ فائدہ ہوگا اور نہ کرو گے تو یہ نقصان۔اسی طرح فلاں کام کرنے سے یہ نقصان ہو گا اور اس کے نہ کرنے سے یہ فائدہ۔غرض اسلام نے جستجو کا رستہ کھول کر بتا دیا ہے۔اس وقت ایک بات کے متعلق میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ نکاح کا معاملہ ہے۔نکاح کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے بعض آیات اس لئے منتخب فرمائیں کہ ان کے ذریعہ نکاح کے متعلق راہنمائی کریں اور ضروری احکام بتا ئیں۔ان آیات میں ایسا طریق بتایا گیا ہے کہ جس پر چلنے سے نکاح با برکت اور فائدہ بخش ہو سکتا ہے۔اب ہمیں نکاح کو بابرکت بنانے کے لئے کسی طریق کے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف یہ ضرورت ہے کہ اس طریق پر عمل کریں۔اب یہ تو ممکن ہے کہ