خطبات محمود (جلد 3) — Page 255
خطبات محمود ۲۵۵ جلد سوم بات ہے۔بعض خیالات اس طرح اللی تحریک کے ماتحت آجاتے ہیں کہ ان کا وجود میں آنا اللہ تعالٰی کے منشاء کے ماتحت ہوتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ الہی سلسلوں میں بہت سی باتوں کی بنیاد روحانی طور پر ہوتی ہے مادی طور پر نہیں ہوتی مگر بہت لوگ یہ بات نہ سمجھنے کی وجہ سے ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔بسا اوقات ایک انسان تکلیفیں اٹھاتا اور طرح طرح کی مشکلات میں پڑتا ہے لیکن روحانیت سے واسطہ رکھنے والا ان مشکلات سے نکلنے کی کوئی نہ کوئی راہ پاہی لیتا ہے۔اللہ تعالی نے اپنے کاموں کے لئے مختلف ذریعے مقرر کئے ہیں ان میں سے کچھ تو دنیوی ہیں اور کچھ موہت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اگر انسان خدا تعالٰی کے دروازہ پر پڑ جائے اور اس وقت تک نہ اٹھے جب تک اس کی مشکلات دور نہ ہو جائیں۔اور یہی کہے کہ میں تو تیری موہت سے ہی اپنی کامیابی کی راہ پاؤں گا تو گو بظاہر اس کے لئے بہت سی مشکلات اور تکالیف ہوں مگر ایک نہ ایک دن اس کے لئے ضرور رستہ کھل جائے گا۔اسے کئی قسم کی تکالیف بھی برداشت کرنا پڑیں گی دیکھنے والے اس پر نہیں گے اور اعتراض بھی کریں گے لیکن جب کوئی انسان اپنی غفلت اور ستی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے دل میں یہ بات گڑ جانے کی وجہ سے کہ میں اسی طرح خدا تعالیٰ کا فضل حاصل کروں گا تو ضرور اللہ تعالی اس کے لئے راہ نکال دیتا ہے۔یہ رشتہ جہاں تجویز ہوا ہے اس میں خدا تعالی آئندہ زیادہ آرام و آسائش کی صورت پیدا کر دے تو اور بات ہے لیکن موجودہ حالت کے لحاظ سے اس سے وہ رشتے زیادہ مناسب معلوم ہوتے تھے جو بر سر روزگار تھے اور معقول تنخواہ پاتے تھے۔مگر میں سمجھتا ہوں بابو صاحب کی قادیان سے محبت کا یہ ثمر تھا کہ انہیں رد کر دیتے رہے لیکن چونکہ وہ ارادہ کر چکے تھے کہ قادیان میں ہی رشتہ کریں گے اس لئے یہ رشتہ منظور کر لیا۔بابو صاحب کی ایک لڑکی کا اسی خاندان میں پہلے رشتہ ہو چکا تھا اس وجہ سے دونوں گھرانوں کے آپس میں تعلقات تھے لڑکی بھی ان کے سامنے تھی اور لڑکا بھی۔مگر رشتہ کی تجویز کے متعلق خدا تعالی نے کچھ عرصہ انتظار کرایا اور پھر ہو گیا۔گو یہ ایک معمولی بات ہے مگر اس سے بہت بڑا سبق حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی ارادہ کرتا ہے اخلاص اور محبت سے نہ کہ سستی اور کو تاہی ہے۔وہ کوشش کر سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ پر توکل کرکے نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ خدا ہی سے لوں گا تو خدا تعالٰی آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، پرسوں نہیں تو اترسوں اس کی خواہش پوری کر دیتا ہے۔