خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 245

خطبات محمود ۲۴۵ جلد سوم ہمیشہ درد پیدا کرتا ہے۔ان کو آرام اسی وقت حاصل ہو گا جب اسلام نے مرد و عورت کے جو حقوق بتائے ہیں ان کا لحاظ رکھا جائے گا۔مجھے افسوس ہے کہ وہی اسلام جو اس آواز کو لے کر آیا اس کے ماننے والے اس پر عمل کرنے میں سب سے پیچھے ہیں۔عورت کی حریت کا سوال غیروں میں پیدا ہو چکا ہے مگر انہوں نے اس کا غلط علاج سو چالیکن مسلمانوں میں ابھی تک یہ احساس بھی پیدا نہیں ہوا۔وہ کہتے ہیں یہ حد درجہ کی بے غیرتی ہے کہ بیوہ یا مطلقہ دوبارہ شادی کرے۔گویا وہ سمجھتے ہیں عورت جانور سے بھی بدتر ہے۔جانور تو دوسرے کے پاس بیچا جا سکتا ہے یعنی وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جاسکتا ہے مگر عورت ایک خاوند سے جدا ہو کر دوسرے کے پاس نہیں جاسکتی مگر جب کوئی خیال پیدا ہو جائے تو پھر وہ بڑھتا اور ترقی کرتا ہے اس لئے اب عورتوں کی غلامی کے خیال کی زندگی بھی تھوڑے دن باقی رہ گئی ہیں۔مسلمان عورتوں میں بھی وہی باتیں پیدا ہو رہی ہیں جو دوسری قوموں میں ہیں۔مگر افسوس ہے کہ مسلمان بجائے اس کے کہ ان کا علاج قرآن کریم سے پوچھیں یورپ کا طریق اختیار کر رہے ہیں اس لئے وہی بے چینیاں جو یورپ میں ہیں ان میں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔قرآن کریم پر عمل کرنے سے گو رسم ورواج کا مقابلہ کرنے میں تکلیف تو ہوگی مگر اس کا انجام نیک ہو گا۔عورت اور مرد کے حقوق کے متعلق دنیا میں انقلاب پیدا ہونے والا ہے مگر ضروری ہے کہ وہ تغیر قرآن کے مطابق ہو۔اگر عورتوں کو قرآن کریم کے بتلائے ہوئے حقوق نہ دیئے گئے تو وہ یورپ والے حقوق کا مطالبہ کریں گی اور لیں گی۔اور وہاں یہ حالت ہو رہی ہے کہ وہ مرد کا صرف نام لیتی ہیں تاکہ اپنے آپ کو اس سے منسوب کر سکیں تا کوئی انہیں آوارہ نہ کہے۔پس انجام بخیر کے لئے ضروری ہے کہ عورتوں کے حقوق ان کو دیئے جائیں مطلقہ اور بیوہ عورتوں کو شادی کی اجازت دی جائے۔اور یہ صرف ابتدائی حقوق ہیں جن سے ابھی تک عورت کو محروم رکھا گیا ہے۔میں نے دیکھا ہے جب کہیں بیوہ کی شادی ہو تو تمام گھر ماتم کدہ بن جاتا ہے اور اس کے خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جاتا ہے ان کو مظلوم سمجھا جاتا ہے گویا عورت کا کوئی حق ہی ان کے نزدیک نہیں۔اس وقت میں صوفی غلام محمد صاحب کے نکاح کا اعلان استانی فاطمہ بیگم سے مبلغ پانسو روپیہ مہر پر پڑھا جانے کا کرتا ہوں۔البقرة : ٢٢٩- الفضل ۳- اپریل ۱۹۲۸ء صفحه ۸۰۷)