خطبات محمود (جلد 3) — Page 244
خطبات محمود جلد سوم کر پکارتا ہے اور اس حقیقت سے نا آشنا ہوتا ہے کہ وہ مرچکی ہے۔اسی طرح چونکہ اس حکم کی حقیقت کو نہ سمجھا گیا تھا اس لئے اس کے اثرات بھی پیدا نہ ہوئے تھے۔قرآن کریم میں مرد کو مخاطب کر کے عورتوں کے متعلق وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ - له ایک چھوٹا سا فقرہ فرمایا گیا جو عظیم الشان نتائج پیدا کرنے والا تھا۔اس کے مقابل پر لاکھوں سال کا طرز رہائش اور رسم و رواج تھے۔اس کے راستہ میں ایک ایک قدم پر روکیں تھیں مگر اس صداقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب خدا تعالٰی نے اس آواز کو اٹھایا لوگوں کی عادات رسم و رواج اس کے مقابل میں آئے مگر اسے کوئی نہ روک سکا۔وہ خیالات جن کی اہمیت دیر سے ظاہر ہو نہایت اہم ہوتے ہیں یہ آواز ان آوازوں میں سے ایک تھی جن کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے وابستہ تھی۔جیسے تو حید کامل جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانہ میں حقیقی شکل میں دنیا پر ظاہر کیا یا جیسے ختم نبوت کا مسئلہ جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اصلی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔خاتم النبیین کے لفظ کو مسلمانوں نے لے لیا تھا مگر اس کی حقیقت کو نہ سمجھا تھا کہ اس کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کو کتنی برتری حاصل ہو گئی۔انہوں نے اس کو محض ایک عزت کا خطاب سمجھ لیا تھا اور حقیقت کی جستجو نہ کی۔ان انکشافات کا ایک لمبے عرصہ تک پوشیدہ رہنا ان کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔وہ زمانہ ان مسائل کے لئے حمل کا زمانہ تھا اور اب ان کی ولادت کا وقت ہے اور بلوغ کو پہنچنے تک نہ معلوم ان کے اور کس قدر حقائق کا انکشاف ہو۔عورت مرد کے تعلق کا مسئلہ ایک نہایت ہی اہم مسئلہ ہے جس کے حمل کے لئے تیرہ صدیاں درکار تھیں اور اب اس نے ایسی شکل اختیار کرلی ہے کہ دنیا حیران ہو رہی ہے کہ آئندہ کیا ہو گا۔اب عورت نے اس امر کا احساس کیا ہے کہ میری حریت کا زمانہ آگیا۔وہ مرد جو عورتوں کو خدمت گار بلکہ غلام سمجھتے تھے اور جو اپنے اکرام کی خاطر بیوی سے ہر قسم کی خدمت لیتے تھے حیران ہیں کہ ہماری زندگی اب کس طرح گزرے گی۔محمد رسول اللہ ا کی زندگی ان کی نظر سے پوشیدہ ہے اور ان کے سامنے وہی احساس ہے جو ان کو ورثہ میں ملا ہے اور وہ حیران ہو رہے ہیں کہ اب کیا ہو گا۔ایک تغیر یورپ میں رونما ہوا ہے اور وہاں مرد اپنی جگہ اور عورت اپنی جگہ چلا رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں اپنی جگہ سے ہل گئے ہیں اور اکھڑنا