خطبات محمود (جلد 3) — Page 233
خطبات محمود ٢٣٣ ۶۴ جلد موم اسلام میں عورت کا مقام فرموده ۲۴ دسمبر۱۹۲۷ء) حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خان نعمت خان صاحب سب حج امر تسر کی لڑکی اقبال بیگم کا نکاح ایک ہزار روپیہ مہر پر اوصاف علی خاں صاحب سے پڑھا۔ خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ان آیات میں نکاح کرنے والے مردوں اور عورتوں کی ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں لیکن نہایت ہی تعجب کی بات ہے کہ مسلمان جن کے نکاحوں کے موقع پر بہترین تدابیر اور زریں ارشاد اور روشن راہنمائیاں کی گئی ہیں وہ اس وقت نکاح کے بارے میں سب قوموں سے زیادہ خرابیاں پیدا کرنے والے ہیں۔ مرد عورت کے تعلقات جن مصلحتوں پر مبنی ہیں اور ان تعلقات میں جو اغراض اور مقاصد پوشیدہ ہیں انہیں وہ قومیں جن کو یہ زریں ہدایات نہیں دی گئیں جو مسلمانوں کو دی گئی ہیں اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بناء پر حاصل کر رہی ہیں مگر مسلمان جن کے لئے صاف اور کھلے الفاظ میں مرد و عورت کے تعلقات کی اغراض، ان کی ذمہ داریاں اور ان کی زندگی کے مقاصد بیان کئے گئے تھے ان کی حالت نہایت گری ہوئی ہے۔ عورتوں کی جو بری حالت مسلمانوں میں ہے میں سمجھتا ہوں دنیا کی اور کسی قوم میں نہیں ہوگی۔ مسلمان اپنے ملک کے دوسرے لوگوں کو ہی دیکھ لیں ہندو عورتوں کی حالت مسلمان عورتوں سے بہتر ہے۔ عیسائی عورتوں کی حالت مسلمان عورتوں سے بدرجہا بہتر ہے، وہ اس مقام پر پہنچی ہوتی ہیں کہ ان کو انسان کہا جا سکتا ہے۔ مگر مسلمان عورتوں کی حالت الا ماشاء اللہ اس سے بہتر نہیں کہ ان کا کثیر