خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 228

خطبات محمود ۲۲۸ جلد سوم اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں رقیب ہوں ۔ اللہ تعالی نے انسانی فطرت میں دو شعلے محبت کے پیدا کر رکھے ہیں۔ ایک محبت روح روحانی کا شعلہ جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے دل میں ایک تڑپ لگی رہے جب تک وہ ایک ہمہ وجوہ وجوہ مکمل ہستی کے ساتھ تعلق پیدا نہ کرے ۔ یہ گویا محبت کا شعلہ ہے دوسرا شعلہ محبت مجازی کا ہے جس سے غرض یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی سے محبت کر سکے تاکہ نسل قائم رہے۔ اور خدا تعالیٰ کی عاشق ہستیاں دنیا میں ہمیشہ پیدا ہوتی رہیں۔ بیاہ کے موقع پر چونکہ محبت مجازی کا تقاضا پورا ہو کر یہ شعلہ ٹھنڈا ہو جانے کو تیار ہوتا ہے اس لئے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں دوسرا شعلہ یعنی شعلہ عشق الہی بھی سرد نہ ہو جائے ۔ پس اللہ تعالی میاں اور بیوی دونوں کو اور دونوں کے رشتہ داروں کو بتا اور جتا دیتا ہے کہ میں رقیب ہوں۔ خاوند کو گویا کہ فرماتا ہے کہ میں رقیب ہوں تمہاری بیوی صرف تمہاری ہی محبت کے لئے پیدا نہیں کی گئی بلکہ اس کا اصل مدعا میری محبت ہے۔ اسی طرح عورت کو (جس میں رشک کا مادہ زیادہ ودیعت کیا گیا ہے) اللہ تعالی جتا دیتا ہے کہ میں تم دونوں کا رقیب ہوں نہ تمہیں شایاں ہے کہ میرے سوا اور کی محبت میں محو ہو جاؤ اور نہ خاوند ہی کے متعلق تمہاری یہ خواہش ہوئی چاہئے کہ اس کی محبت صرف تمہارے ہی لئے ہو بلکہ وہ بھی ہمارا ہی بندہ ہے اور اس کو بھی صرف ہمارا ہی عاشق ہونا چاہئے۔ الفضل ۴ - فروری ۱۹۲۷ء صفحہ (۷) له الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۲۶ء - ۴ جنوری ۱۹۲۷ء صفحہ ۱۵