خطبات محمود (جلد 3) — Page 229
د محمود ۲۲۹ ۶۳ جلد سوم عورتوں کو کامل حریت دو۔فرموده ۱۵ اپریل ۱۹۲۷ء بعد نماز ظهر) مورخہ ۱۵ اپریل ۱۹۲۷ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بعد نماز ظہر چوہدری سردار خان ولد اصالت خان صاحب کے نکاح ہمراہ عائشہ بیگم بنت چوہدری چراغ دین صاحب کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔گو اس وقت گلے کی تکلیف سے میرے لئے بولنا مشکل ہے۔لیکن چونکہ پچھلے دنوں چند نکاح جو ہوئے ہیں ان میں اختلاف پیدا ہوا ہے اس لئے اس خطبہ میں میں اختصار کے ساتھ مرد د عورت کے بعض فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔جس طرح مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں خدا کے نزدیک دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔جس طرح مرد خدا کا بندہ ہے اسی طرح عورت خدا کی بندی ہے جیسے مرد خدا کا غلام ہے ویسے ہی عورت خدا کی لونڈی ہے۔جیسے مرد آزاد اور کر ہے ویسے ہی عورت آزاد ہے۔دونوں کو حقوق حاصل ہیں۔عورت گائے یا بھینس کی طرح نہیں کہ لیا اور باندھ لیا۔انسانیت کے لحاظ سے عورت ویسی ہی ہے جیسے کوئی مرد - آزادی ایک قیمتی چیز ہے جس سے اللہ تعالی نے عورت کو ایسا ہی حصہ دیا ہے جیسا کہ مرد کو اور دونوں پر بعض فرائض اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔بعض مرد اس مسئلہ کو نہیں سمجھتے وہ سمجھتے ہیں کہ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء - لله کے ماتحت عورتوں پر حاکم ہیں حالانکہ ان کو درجہ نگرانی کا ملا ہے مگر نگرانی سے حریت میں فرق