خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 5

خطبات محمود تا ریا ہے جلد سوم رود دیوار سچ اول چون نهد معمار سج سنو! میاں بی بی کا تعلق ایک گھنٹہ کا نہیں ساری عمر کا ہے۔ساری عمر کا نہیں بلکہ میں تو کہتا ہوں قیامت تک کا ہے کیونکہ اس تعلق کا اثر نسل در نسل چلنے والا ہے۔پس یہ تعلق ایک دو دن کا نہیں بلکہ قیامت تک کا ہے جیسا بیج ہو گا ویسا ہی پھل لگے گا۔عمدہ بیج جو بویا جاتا ہے تو یہ اس سال کے لئے نہیں بلکہ پھر وہی پیج ہے جو اگلے سال کے لئے بویا جائے گا اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا جائے گا۔بعض علاقوں کی بعض پیداوار مشہور ہوتی ہے۔مثلاً عرب کی کھجور۔یہ کیوں؟ اس لئے کہ بیج ایسا تھا اور اس کی غورو پرداخت اعلیٰ طریق پر ہوئی۔اب اس کا اثر آج تک چلا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نکاح میں بھی دینی طور پر ان باتوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ لڑکی ذات الدین ہو۔لڑکے کے اخلاق خراب نہ ہوں۔عرب میں تو گھوڑوں تک میں ذات کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔یورپ میں زراعت کے بارے میں احتیاط کرتے ہیں۔یہی حال انسانی نسل کا ہے۔جس نکاح کی بنیاد صدق و سداد پر ہو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو مد نظر رکھا گیا ہو ضرور ہے کہ اس پر نیک ثمرات مرتب ہوں۔دیکھو حضرت ابراہیم" کی شادی ہوئی۔اس نکاح کی بنیاد کسی ایسے نیک اصل پر تھی کہ اس سے نبی ہی نبی پیدا ہوتے چلے گئے۔ایک طرف موسیٰ، ہارون، مسیح (علیهم السلام) تک دوسری نسل میں اسماعیل (علیہ السلام) پھر آنحضرت ا جیسا عظیم الشان ایک ہی نبی جو سارے نبیوں پر بھاری ہے۔غور کرو پہلے ایک پیج تھا جس کا اثر آج تک چلا آتا ہے۔پس جس نکاح کی بنیاد صدق و سداد پر ہوگی وہی خیر کثیر پھیلانے والا ہو گا۔لوگ ایسی باتوں کا بہت کم خیال رکھتے ہیں اور وقت پر جس طرح بن پڑے اپنی غرض کو حاصل کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔حضرت صاحب کے پاس ایک شخص نے عرض کیا کہ غیروں میں تو رشتے کرنے سے حضور نے منع فرما دیا اگر ایک رجسٹر ہو جس میں جماعت کے لڑکے لڑکیوں کی فہرست ہو اور ان کے نکاح حضور کی معرفت ہوا کریں تو علاوہ بابرکت ہونے کے سہولت بھی ہو جائے۔آپ نے اس درخواست کو منظور فرمالیا - " اتفاق ایسا ہوا کہ ایک احمدی کی بیوی مرگئی تو حضور نے اسی رجسٹر بنانے والے کو رشتہ دینے کے متعلق فرمایا تو وہ کہنے لگا یہ تو نہیں ہو سکتا ہم مغل وہ پٹھان۔آخر ایک غیر احمدی کو اس نے لڑکی دی۔حضرت صاحب نے اس کے بعد رجسٹر چھوڑ دیا۔ایسا ہی ایک اور شخص تھا اس نے کہا حضور ! یہ میری لڑکی آپ کے سپرد۔آپ نے فرمایا بہت اچھا فلاں ر