خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 4

خطبات محمود انہوں نے کہا پورا کیا۔تو اب شکایت نہیں ہو سکتی۔اگر کسی کو میں اپنے مال سے زیادہ دیتا ہوں تو یہ میری مرضی سے فرمایا یہ مالک مکان اللہ ہے اور وہ مزدور یہودی، عیسائی اور مسلمان ہیں۔پس مسلمانوں کو دوہرا اجر ملنے پر یہود و عیسائی کو شکایت نہیں ہو سکتی کہ ان سے جو وعدہ ہوا وہ پورا کیا گیا۔اسی طرح اگر ایک شخص جس قدر وعدہ کرتا ہے اور حقوق اپنے ذمہ لیتا ہے وہ ادا کر دے تو اس سے کوئی شکایت نہیں۔ہاں انسان پہلے لاف زنی کے طور پر بہت سے وعدے کردے جس کا کسی نے اس سے مطالبہ بھی نہیں کیا اور پھر ان کا ایفاء نہ کرے تو یہ غلطی ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ مسلمانوں کی مجلس میں بیٹھ کر اسلامی طریق پر جو نکاح کرتا ہے وہ خواہ زبان سے نہ بولے تو بھی جس مذہب کے احکام کے ماتحت وہ نکاح کرواتا ہے گویا وہی نکاح ثبوت ہے اس بات کا کہ دوسرے لفظوں میں اس نے تمام پابندیوں کو اپنے ذمہ لیا۔اب اس کا فرض ہے کہ وہ ان حقوق کو پورے طور پر ادا کر دے جو حقوق اسلام نے رکھے۔اگر وہ پورے طور پر ادا کر دے تو پھر اس سے شکایت کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ زائد دیتا تو اس کی اپنی خوشی پر موقوف ہے چاہے تو دے چاہے نہ دے۔یاد رکھو فساد جبھی ہو گا جبکہ خلاف وعدہ انسان کرے گا۔مثلاً ایک شخص ہے وہ نہیں چاہتا کہ مجھے ضرور حسین بیوی ہی ملے مگر لڑکی والے اپنی لڑکی کی خوبصورتی کی خواہ مخواہ تعریف کرتے ہیں یا مثلا وہ نہیں چاہتا کہ میری بیوی کے رشتہ دار مالدار ہوں یا اعلیٰ پوزیشن رکھتے ہوں مگر لڑکی والے خواہ مخواہ اسے کہتے ہیں کہ ہمارے رشتہ دار اور ہم بڑے مالدار اور اعلیٰ پوزیشن رکھتے ہیں۔اب بیاہ کے بعد نکاح کرنے والا دیکھتا ہے کہ جس بات کی میرے سامنے تعریف کی گئی تھی وہ اس میں نہیں تو ضرور اسے رنج ہو گا۔اسی طرح ایک نص دکاندار ہے اس سے کوئی کپڑا خریدتا ہے تو وہ دکاندار اس شخص کے سامنے خواہ مخواہ ایسی تعریف اس کپڑے کی کرتا ہے جو نہ اس کپڑے میں موجود ہے اور نہ اس خریدنے والے کی خواہش تھی کہ ضرور ایسا ہی کپڑا ہو جیسے یہ بیان کرتا ہے اب اس کے خلاف نکلنے پر وہ گاہک ضرور بدظن ہو گا اور اسے رنج پہنچے گا۔اسلام نصیحت کرتا ہے کہ قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا۔تقویٰ اختیار کرو، نکاح کے معاملہ میں جھوٹ نہ بولو۔ہمارے زمانہ میں جھوٹ بہت بڑھ گیا ہے اور جس چیز کی بنیاد گناہ پر ہوگی وہ اخیر تک نقصان رساں ہوگی۔