خطبات محمود (جلد 3) — Page 183
خطبات محمود ۱۸۳ جلد سوم متقی ہوتا ہے اس سے ان کو فائدہ ہو گا مگر اس لئے ثواب نہ ہو گا کہ دین کی خدمت کے لئے انہوں نے شادی کی۔ برخلاف اس کے ایک شخص اس نیت سے شادی کی کوشش کرتا ہے مگر بیوی خراب مل جاتی ہے تو اس کو ثواب ہو گا۔ پہلی صورت میں گو خاوند اچھا ہو یا بیوی اچھی ہو اور ان کو دین کی خدمت کا موقع مل جائے لیکن ان کا نکاح کرنا اچھا فعل نہ قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ ان کی نیت نکاح سے خدمت دین کرنا نہ تھی اور دوسری صورت میں چونکہ نیت اچھی تھی گو اسے کسی وجہ سے دھوکا لگ گیا تو ثواب کا مستحق ہوگا - الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ اس کی نیت نیک تھی تو اعمال کے نتائج نیت کے ماتحت ہوتے ہیں اور بہت سی نیتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے نیک نتائج نکل آتے ہیں۔ کیونکہ نیت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ میں نے مسمریزم کے متعلق کتابیں پڑھی ہیں اور خود عمل کر کے بھی دیکھا ہے تعجب ہوتا ہے کہ اچھا بھلا آدمی یہ کہنے سے کہ سو گیا کس طرح سو جاتا ہے۔ مگر سوتا اسی وقت ہے جبکہ عامل پختہ نیت کرے کہ معمول ہو گیا اور یہ نیت کر کے جب اس پر توجہ ڈالتے ہیں تو وہ بھی وہی کچھ سوچنے لگ جاتا ہے جو عامل سوچتا ہے۔ پس بعض باتیں ایسی مضبوط ہیں کہ جس طرح چلنا چاہتی ہیں اسی طرح کرا لیتی ہیں اگر شادی کرنے والا یہ نیت کرلے کہ نیک بیوی کرتی ہے تو اگر بد بیوی بھی ہو گی تو نیک ہو جائے گی یا بد خاوند ہو گا تو نیک ہو جائے گا۔ اور اگر ان میں تغیر بھی نہ ہو گا تو شادی کرنے کے فعل سے ان کو ثواب ضرور ہو گا۔ پھر جس طرح باطن کا اثر ظاہر پر ہوتا ہے اسی طرح اگر باطن کی اصلاح کر لی جائے یعنی نیت نیک اور درست کر لی جائے تو ظاہر بھی درست ہو جاتا ہے۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو باطل خیال پر ہوتے ہیں لیکن جب وہ اپنے خیال کی اصلاح کر لیتے ہیں تو ظاہر میں بھی نیک ہو جاتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سناتے تھے کہ ایک خیال کیا کہ ایسا طریق اختیار کروں گا کہ لوگ مجھے بڑا متقی اور پر ہیز گار سمجھیں اس نیت سے اس نے عبادت کرنی شروع کی لیکن جب باہر نکلے تو لوگ ہی کہیں کہ بڑا مکار ہے۔ اسی طرح جب کچھ عرصہ رہا اور اسے کامیابی نہ ہوئی تو اس نے کہا آؤ اپنا خیال ہی درست کرلوں اور خدا کے لئے عبادت کروں۔ ادھر اس نے یہ نیت کی ادھر ایسے سامان ہو گئے کہ جن سے اس کی یہ نیت مستقل ہو جائے اب اس میں سادگی اور نورانیت آگئی ہوگی جب وہ باہر نکلا تو بچے بھی کہنے لگے کہ یہ بڑا بزرگ اور پر ہیز گار ہے۔ اسی طرح حضرت خلیفہ اول سناتے۔ ایک شخص کی اس طرح اصلاح ہوئی کہ اس کا ایک