خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 127

خطبات محمود ۱۲۷ جلد سوم نہیں کرتا اس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اس لئے کوئی شریف آدمی کبھی جھوٹ نہیں بولے گا اور نہ کبھی چوری کرے گا۔وہ خیال کرے گا کہ جھوٹ بولوں گا تو میرا اعتماد اٹھ جائے گا اور چوری کروں گا تو پکڑا جاؤں گا۔یہ نیکیاں ہیں مگر ان کے چونکہ طبعی معین نتائج مقرر ہیں اس لئے ضروری نہیں کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کو بھی نہ مانتا ہو مگر وہ جھوٹ نہ بولتا ہو اور چوری سے پر ہیز کرتا ہو یا اسی طرح قتل کا فعل ہے علاوہ شرعی گناہ کے اس کا ایک طبعی ظاہر نتیجہ بھی ہے اس لئے ضروری نہیں کہ ایک قاتل نہ ہو اور خدا کو بھی نہ مانتا ہو کیونکہ جو قاتل ہو اس کو سوسائٹی رد کر دیتی ہے۔اخلاق سے پیش آنا، اور امانت و دیانت کی پاس داری علاوہ خدا تعالی کی رضاء کے ظاہر میں بھی اس کا ایک نتیجہ ہے ممکن ہے کہ کوئی شخص خدا کو نہ مانتا ہو مگر دوسروں سے اخلاق و محبت سے پیش آئے اور دیانت اور امانت سے کام لے۔پس بعض امور کا نتیجہ طبعی طور پر معین ہے اور بعض کا معین نہیں مخفی ہے اور پھر ان درجات میں بھی اختلاف ہے۔بعض مخفی اور مخفی تر ہوتے ہیں اور بعض ظاہر اور ظاہر تر ہوتے ہیں اور جو جس درجہ کی نیکی ہو اس کے نتائج بھی اسی قسم کے ہوتے ہیں مثلاً چوری ایک بدی ہے اس کا فوری نتیجہ ہے۔سچائی نیکی ہے اس کا فوری نتیجہ ہے مگر نماز ایک نیکی ہے لیکن اس کا نتیجہ جو گو اعلیٰ ہے مگر مخفی ہے اس کے تارک کو جو عذاب ملے گا وہ بھی ظاہر ہونے والا نہیں۔ثواب کی بھی دو قسمیں ایک نیکی کا کام کیا جاتا ہے مگر دنیا کے لئے اور ایک اللہ اور رسول کے لئے جو دنیا کے لئے کام ہیں ان کا ثواب فور امل جاتا ہے۔مثلاً سچائی کا اگر اس میں نیت خدا کی رضاء کا حصول بھی کر لیا جائے تو اس کا ثواب اور بھی بڑھ جاتا ہے۔اس کے متعلق اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے۔يَاتِهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا - له جو شخص قول سدید پر دونوں رنگ میں عمل کرتا ہے یعنی اس لئے بھی کہ صداقت اچھی ہے اور اس لئے بھی کہ اس سے رضائے الہی حاصل ہوتی ہے اس کو بہت ثواب ملتا ہے۔یورپ والے قریبا د ہر یہ ہیں مگر ان کا تجارت کے معاملہ میں صداقت اور سداد پر عمل ہے۔ان سے لاکھوں کی چیز منگواؤ تو کوئی فریب کا اندیشہ نہیں۔اس لئے ان کی تجارت کو فروغ ہے۔اگر ناقص چیز ہو تو وہ لکھ دیں گے کہ یہ چیز ناقص ہے اس لئے ہم نے قیمت کم کر دی ہے۔اگر پسند نہ ہو تو واپس بھیج دیں خرچ ہمارا۔اس بارے میں وہ نقصان کا بھی خیال نہیں کرتے مگر اور لوگ تجارت میں اس اصول کے پابند نہیں اس لئے ان کی تجارت تباہ ہو رہی ہے۔یورپ کے اس اصول میں گو خدا کی رضا مد نظر نہیں اس