خطبات محمود (جلد 3) — Page 112
خطبات محمود جلد سوم آسائش کے سامان مہیا ہوتے ہیں لیکن باوجود اس کے ان کے دل میں خاوند کی محبت نہیں ہوتی۔غرض جس قدر باتیں ظاہر میں خوبیاں نظر آتی ہیں عملی زندگی میں آکر لغو ہو جاتی ہیں اور نکاح کی جو غرض ہوتی ہے وہ حاصل نہیں ہو سکتی۔ایک غریب اور بد صورت عورت اپنے خاوند کی پسندیدہ ہوتی ہے اور ایک بدصورت اور کنگال خاوند اپنی عورت کا محبوب ہوتا ہے۔بر خلاف اس کے دیکھا جاتا ہے کہ خوبصورت اور مالدار عورت سے خاوند کو سخت نفرت ہوتی ہے اور مالدار خوبصورت خاوند عورت کے لئے قابل نفرت ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دلوں کی آپس میں کوئی نسبت ہے اور جب تک وہ نسبت قائم نہ ہو جائے اس وقت تک میاں بیوی کو آرام اور اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا اس لئے تقویٰ سے کام لینے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ مال و دولت میاں بیوی میں صلح اور اتحاد پیدا نہیں کر سکتا۔عزت، وجاہت میاں بیوی کو آرام دہ زندگی نہیں دے سکتی۔خوبصورتی اور جمال کی وجہ سے ان میں تعلق نہیں قائم رہ سکتا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں حاصل ہوتی ہیں مگر پھر بھی میاں بیوی لڑتے ہیں ان میں ناچاقی ہوتی ہے حتی کہ وہ ایک دوسرے کی شکل سے بیزار ہوتے ہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ دلوں کے اسرار ایسے گہرے اور پوشیدہ ہیں کہ ان کے متعلق اندازہ لگانا انسانی قابلیت کی حدود سے باہر ہے۔اس زمانہ میں علوم نے بڑی ترقی کی ہے مگر اس امر کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا کہ ایک عورت ایک مرد کے ساتھ رہ کر کیوں خوش رہتی ہے۔یا ایک مرد ایک عورت کے ساتھ رہ کر کیوں آرام اور اطمینان کی زندگی بسر کر سکتا ہے اور دوسری بیوی کے ساتھ یا دوسری عورت دوسرے مرد کے ساتھ آرام سے نہیں رہ سکتی۔یہاں تو نہیں لیکن یورپ میں ایک دوسرے کو دیکھ کر اور میل جول کے بعد شادی کی جاتی ہے مگر ایسا ہوتا ہے کہ ایک خوبصورت عورت کی طرف کسی کی رغبت نہیں ہوتی۔اور اس سے کم درجہ کی خوبصورت بیسیوں عورتوں کی شادی اس سے قبل ہو جاتی ہے۔وہ کیا چیز ہوتی ہے جس کی وجہ سے بدصورت عورتوں کی طرف لوگوں کی رغبت ہو جاتی ہے اور ان سے زیادہ خوبصورت عورت کی طرف کسی کی رغبت نہیں ہوتی۔یہ نہایت باریک بھید ہے جسے دنیا آئندہ دریافت کر سکے گی یا نہیں اس کا تو ہمیں علم نہیں مگر اب تک اسے دریافت نہیں کر سکی اور ہرگز اس بات کا پتہ نہیں لگایا جا سکا کہ وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے نہایت