خطبات محمود (جلد 3) — Page 107
خطبات محمود 1+6 جلد سوم اسلام میں ہم دیکھتے ہیں کہ عورت کے حقوق انسانیت میں کوئی کمی نہیں کی گئی بلکہ مساوات رکھی ہے۔مرد سے کوئی فرق نہیں رکھا۔تمام معاملات میں برابری دی مگر بعض اور تعلقات ہیں جو انسانیت کے علاوہ اجتماعی حیثیت سے پیدا ہوتے ہیں۔فردا فردا عورت کے حقوق مساوی ہیں مگر اجتماعی حیثیت میں نظام کے قیام کے لئے بعض حقوق عورتوں سے لے لئے گئے کیونکہ جب ایک صف میں کچھ لوگوں کو کھڑا کیا جائے گا تو نظام چاہتا ہے کوئی اول ہو کوئی آخر ورنہ صف نہیں بن سکتی۔فردا فردا ہر شخص میں مساوات ہے۔مگر قطار میں وہ باقی نہیں رہتی اسی طرح اسلام نے حقوق کے بارے میں کہا ہے کہ انفرادی حیثیت میں مرد و عورت کے حقوق مساوی ہیں مگر اجتماعی حیثیت میں کمی بیشی کی ہے۔دنیا نے اس کو اب سمجھا ہے مگر اسلام نے اس کو پہلے سے سمجھ لیا تھا۔مگر افسوس ہے کہ مسلمان اب تک غافل رہے ہیں۔جہاں تک انفرادی حیثیت کا تعلق تھا وہ بیان کرتے تھے۔مگر اجتماعی حیثیت میں جو کمی بیشی ہے اس کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ انفرادی طور پر ہر شخص مرد ہو کہ عورت مساوات رکھتا ہے لیکن جب وہ اجتماعی حیثیت میں آئے گا تو ایک کو اول اور دوسرے کو دوم ہونا پڑے گا۔اب یہ کرو ہے۔اور اب جب کہ عورتیں بھی لاکھوں تعلیم یافتہ ہو گئی ہیں وہ سوال کرتی ہیں کہ مردوں میں کیا خصوصیت ہے کہ وہ ہم سے بڑھ کر ہیں۔میں نے آج ہی اخبار میں ایک مضمون پڑھا ہے کہ ایک جگہ امتحان ہوا تمام بڑے بڑے انعام عورتوں کو ملے۔ایک پادری نے اس بورڈ کی طرف اشارہ کر کے جس پر نام لکھے تھے کہا کہ وہ لوگ جو عورتوں کو مردوں کے مقابلہ میں کم درجہ کا خیال کرتے ہیں آئیں اور آنکھیں کھول کر دیکھیں۔اگر میں وہاں ہو تا تو کھڑا ہو جاتا اور کہتا اے کاش مسیح زندہ ہوتا اور میں یہ بورڈ اس کے سامنے رکھ دیتا۔قاعدہ ہے کہ جس چیز کو زور سے دبایا جائے وہ زور ہی سے ابھرتی ہے۔عورتوں کی اب آنکھیں کھلنے لگی ہیں اور ان کے سامنے ہزاروں سال کی تاریخ ہے جس میں ان کو نظر آ رہا ہے کہ مردوں نے عورتوں کے حقوق کو پامال کیا ہے اس لئے ان کے دل میں مردوں کی طرف سے ایک نفرت اور حقارت پیدا ہو رہی ہے اور جب نفرت کا جوش ہو تو عقل ماری جاتی ہے اور جائز دنا جائز کی تمیز اٹھ جاتی ہے۔اس وقت یہاں تک بھی کہا جایا کرتا ہے کہ فلاں چیز کیوں ہمارا حق نہیں جو در حقیقت ان کا حق نہ ہو۔