خطبات محمود (جلد 3) — Page 103
خطبات محمود ١٠٣ جلد سوم وہ نتیجہ بقاء ہے۔اگر اس کا نتیجہ بقاء نہ ہو تو ساری دنیا فنا ہو جائے۔ہر ایک جنس کی خواہش ہے کہ اگر وہ خود نہ رہے تو اس کا جانشین ضرور ہونا چاہئے۔ہر چیز چاہتی ہے کہ وہ باقی رہے۔اور یہ بات اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب دو چیزیں آپس میں ملیں۔ہر چیز بقاء چاہتی ہے اور بقاء دو چیزوں کے ملنے کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے۔یہ بقاء انسان کو متوجہ کرتی ہے کہ اس کو حقیقی بقاء حاصل ہو۔تب اس کی توجہ خدا کی طرف جاتی ہے کوئی کہے کہ یہ خواہش تو کافر میں بھی ہے مگر اس کی زندگی کا مقصد یہیں تک ہے لیکن مومن کہتا ہے کہ اصل زندگی موت سے گزرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اور اس کے لئے رنج اور مصیبت یہ ہے کہ خدا سے دوری ہو۔پس حقیقی بقاء کے لئے اس طرف متوجہ کیا گیا ہے دنیا کے میل میں فنا ہے اور کچھ کھویا جاتا ہے۔لیکن وہ میل جو خدا سے ہو وہ باقی رہتا ہے۔اور ہمیشہ کے لئے باقی رہتا ہے ان دونوں باتوں کی طرف نکاح میں متوجہ کیا گیا ہے۔الفضل ۱۸ جولائی ۱۹۲۱ء صفحہ (۶) نے فریقین کا علم نہیں ہو سکا۔