خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 89

محمود ۸۹ جلد سوم دوسروں کے رنگ میں ڈھلنا پڑتا ہے۔تو اگر انسانی عمر کی اوسط ساٹھ سال مانی جائے تو اس میں سے پندرہ سال تو اس کی کمزوری اور ناتوانی میں گئے اور باقی ۴۵ رہے۔ان میں سے بھی پندرہ سونے میں گئے کیونکہ عموماً لوگ ۸ گھنٹے سوتے ہیں۔باقی تمیں سال رہے۔یہ تیس سال کی زندگی جو بقیہ کا ہے جب ہم اس پر غور کرتے ہیں کہ اس میں اس کا کتنا دخل ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے اثرات ارضی و سماوی ہیں جو اس پر اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔بہت سے تغیرات دنیا کے خواہ کسی حصہ میں ہوں ان کا اثر ہم تک پہنچتا ہے اور ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا۔مثلاً یہی انفلوئنزا اس کو سپینش انفلوئنزا کہتے تھے کہ یہ چین میں پیدا ہوا مگر ہمارے ملک میں آیا اور اس سے ساٹھ لاکھ اموات ہو ئیں۔ابتداء میں ہندوستان کا اس میں کوئی دخل نہ تھا لیکن جو دنیا میں تغیر ہوا اس کا اثر یہاں اتنا ظاہر ہوا۔پس بہت سی مجبوریاں اور بہت سے اثرات ہوتے ہیں جن کے ماتحت اس کو اپنی زندگی کو چلانا پڑتا ہے۔کہیں قوم و ملک کے حالات ہوتے ہیں، کہیں ماں باپ کے اثرات ہوتے ہیں، کہیں دوستوں کا اثر ہوتا ہے، کوئی نوکری پیشہ ہوتا ہے تو ان کا اثر ہوتا ہے، بعض دفعہ یہ خیال کرتا ہے کہ میں اپنے منشاء سے کوئی کام کرتا ہوں مگر دراصل اس میں بھی اس کے منشاء کا دخل نہیں ہوتا دوسروں کے اثرات کے ماتحت اس نے اس کو اپنا منشاء بنالیا ہوتا ہے اور یہ اس پر خوش ہو جاتا ہے۔پس بہت دفعہ اس پر ان لوگوں کا بھی اثر پڑتا ہے جن سے اس نے مشورہ نہیں لیا ہوتا۔جب ہم اس حصہ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کا ایک قلیل جو چھ ماہ سے زیادہ نہیں بنتا اس کے اختیار میں ہوتا ہے۔اسی وجہ سے بعض نے کہا ہے کہ انسان کا ایک فعل بھی اپنے اختیار سے نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بظاہر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے اختیارات سے کرتا ہے مگر دوسروں کے دباؤ کے نیچے جس کا اس کو علم بھی نہیں ہو تا کام کرتا ہے۔ان لوگوں نے بالکل اختیار کا انکار کر دیا مگر یہ حد سے بڑھ گئے اور یہ ان کی غلطی ہے۔ہاں اس میں شک نہیں کہ بہت سے حصہ عمر میں انسان کے اپنے ارادہ کا دخل نہیں اور جس میں اس کا ارادہ ہے وہ چھ ماہ سے زیادہ نہیں۔لیکن اس کی ترقی کی خواہشات اور اس کے ارادے بہت زیادہ ہیں اور ادھر اس کی اس قدر بے چارگی ہے۔پھر یہ امنگ انسان کی کس طرح پوری ہو سکتی ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔